مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود بھارت میں حالیہ سروے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آئی ٹی شعبے میں ملازمین کو نوکریوں کے خطرے کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اے آئی نے ملازمین کی جگہ لینے کے بجائے کام کے طریقوں اور مہارتوں کی نوعیت بدل دی ہے۔
یہ تحقیق انڈین کونسل آف ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (ICRIER) نے اوپن اے آئی کے تعاون سے تیار کی ہے، جس کا عنوان ہے: ’’اے آئی اور نوکریاں: یہ وقت مختلف نہیں ہے‘‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برطرفیوں کو براہِ راست اے آئی سے جوڑنا درست نہیں۔
سروے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ہوا، جس میں بھارت کے 10 شہروں کی 650 آئی ٹی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے بھرتیوں، کاروباری طلب، پیداواری صلاحیت اور مہارتوں کے تقاضوں کا تجزیہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، اے آئی نے کام کو زیادہ منظم اور تیز بنایا ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور انسانی ملازمین کی بڑی تعداد بے روزگار نہیں ہوئی۔ البتہ انٹری لیول کی بھرتیوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ درمیانی اور سینئر سطح کی بھرتیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ آٹومیشن والے عہدے نسبتاً زیادہ خطرے میں ہیں، لیکن سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا انجینئرز اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ محققین کے مطابق مجموعی رجحانات کووڈ سے پہلے کے دور کے مترادف ہیں اور اے آئی نے شعبے کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں کیا۔
بھارت میں آئی ٹی ملازمین میں خوف کی بجائے اطمینان
