Baaghi TV

ایئر انڈیا میں اب "موٹے”کیبن کریو ناقابل قبول

airindia

بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا نے فضائی میزبانوں (کیبن کریو) کے لیے صحت اور فٹنس سے متعلق ایک نئی سخت پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔ اس پالیسی کے تحت کم وزن، زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں تنخواہ میں کٹوتی اور ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے۔

ایئر لائن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق کیبن کریو کے لیے باڈی ماس انڈیکس (BMI) 18.5 سے 24.9 کے درمیان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جسے "مطلوبہ حد” کہا گیا ہے۔ اگر کسی ملازم کا BMI 18 سے کم ہو تو اسے کم وزن تصور کیا جائے گا، تاہم طبی معائنہ اور فنکشنل ٹیسٹ پاس کرنے کی صورت میں اسے عارضی طور پر کلیئر کیا جا سکتا ہے۔پالیسی کے مطابق 25 سے 29.9 BMI رکھنے والے افراد کو "زیادہ وزن” قرار دیا جائے گا، اور انہیں صرف اسی صورت قابل قبول سمجھا جائے گا جب وہ فنکشنل اسیسمنٹ میں کامیاب ہوں۔ جبکہ 30 یا اس سے زائد BMI رکھنے والے افراد کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

ایئر انڈیا نے واضح کیا ہے کہ ایسے ملازمین کو فوری طور پر ڈیوٹی روسٹر سے ہٹا دیا جائے گا اور ان کی تنخواہ بھی روک لی جائے گی۔ انہیں سات دن کا وقت دیا جائے گا کہ وہ اپنا BMI قابل قبول حد میں لے آئیں، بصورت دیگر مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح کم وزن یا زیادہ وزن والے کیبن کریو کو بھی اس وقت تک ڈیوٹی سے ہٹایا جائے گا جب تک وہ فنکشنل اسیسمنٹ پاس نہیں کر لیتے۔ جو افراد اس ٹیسٹ میں ناکام ہوں گے، انہیں بغیر تنخواہ معطل کر دیا جائے گا۔

ایئر لائن کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد عملے میں صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا اور انہیں فٹنس کے نئے معیارات سے روشناس کرانا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں مزید سخت فٹنس معیار نافذ کرنے کی تیاری کا حصہ ہے۔یہ نئی پالیسی نہ صرف موجودہ کیبن کریو بلکہ زیر تربیت عملے پر بھی لاگو ہوگی۔ یہ اقدام ٹاٹا گروپ کی جانب سے 2022 میں ایئر انڈیا کے حصول کے بعد جاری اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے، جس کے تحت گزشتہ چند برسوں میں ادارے میں بڑی سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر ایئرلائنز جیسے انڈیگو بھی وزن اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے حکمت عملی اپناتی رہی ہیں، کیونکہ جہاز کے مجموعی وزن میں کمی سالانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر کی بچت کا سبب بن سکتی ہے۔انڈیگو نے مرد عملے کی بجائے خواتین عملہ تعینات ہے، اس سے فلائٹ بوجھ پر وزن میں نمایاں کمی آئی اور جب ایک سال میں حساب لگایا جائے تو لاکھوں ڈالر کی بچت ہوتی ہے۔

More posts