سپریم کورٹ میں عمران خان سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل عبدالغفور انجم کو گزشتہ تین ماہ سے بتایا جا رہا تھا کہ عمران خان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔
ان کے مطابق معاملہ صرف جیل سپرنٹنڈنٹ تک محدود نہیں، بلکہ نگرانی کے کیمروں کے ذریعے بھی صورتحال دیکھی جا سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو ہفتوں سے عمران خان کی بینائی متاثر ہو رہی تھی۔
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان آج جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں۔ ان کے بقول اگر انصاف مل رہا ہوتا تو وہ قید میں نہ ہوتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا علاج شفاء اسپتال میں ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے گا، اور متعلقہ حکام کے پاس اس حوالے سے فوری اقدامات کے لیے دو دن کا وقت ہے۔
عمران خان کی آنکھ کے مسئلے سے جیل حکام آگاہ تھے، علیمہ خان
