عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی انسٹاگرام پوسٹ میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔
علی ظفر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ خدا کے بے حد شکر گزار ہیں اور اُن تمام افراد کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اُن کی زندگی کے مشکل ترین دور میں اُن کا اور سچ کا ساتھ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بالآخر انصاف ہو گیا ہے، تاہم انہیں کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں بلکہ دل میں صرف عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔گلوکار نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک یہ باب اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی میں آگے بڑھیں۔ علی ظفر نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے ایک آزمائش کے اختتام کے طور پر لیتے ہیں۔
واضح رہےکہ لاہور کی عدالت نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع عدالت میں پیش نہ ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں مؤثر شواہد فراہم کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ یہ کیس پاکستان میں ‘می ٹو’ تحریک کے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے اور طویل عرصے تک عوامی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
