قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام اہم علاقائی ممالک فعال ہو گئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ایران اور امریکا کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور عمان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطری وزیراعظم کا حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں خطے میں امن قائم کرنے اور تصادم کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام علاقائی طاقتیں خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مذاکرات مناسب ماحول میں اور خطرات سے پاک طریقے سے آگے بڑھیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ یہ مذاکرات امریکی صدر کی پیشکش کے بعد خطے کی دوست حکومتوں کی مشاورت سے شروع کیے جا رہے ہیں اور یہ مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے دائرہ کار میں ہوں گے۔
عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور قطر، ترکی اور مصر ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم
