میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو سندھ بینک کے آپریشن منیجر اصغر ڈھر کے خلاف کرپشن، رشوت خوری اور تشدد کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ ہاری خان محمد لاڑک نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ہاری کارڈ کے اجرا کا پیغام موصول ہونے کے بعد انہوں نے اوباڑو سندھ بینک سے رجوع کیا۔
خان محمد لاڑک کے مطابق بینک کے آپریشن منیجر اصغر ڈھر نے ہاری کارڈ کی رقم دلوانے کے عوض 15 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ متاثرہ ہاری نے غربت اور مجبوری کا واسطہ دیا، تاہم منیجر نے واضح الفاظ میں کہا کہ رشوت دیے بغیر رقم نہیں ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مجبوری کے تحت ادھار لے کر پہلے 10 ہزار روپے ادا کیے، مگر منیجر مطمئن نہ ہوا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں مزید 4 ہزار روپے دینے پر کام ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن رشوت لینے کے باوجود ایک ماہ تک بینک کے چکر لگوائے گئے۔
متاثرہ ہاری کا کہنا ہے کہ جب تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو اصغر ڈھر نے سیکیورٹی گارڈ کو بلا کر انہیں دھکے دے کر بینک سے باہر نکلوا دیا، جس سے وہ زخمی بھی ہوئے۔
خان محمد لاڑک نے سندھ حکومت، اعلیٰ حکام، بینک انتظامیہ، نیب اور اینٹی کرپشن اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اوباڑو سندھ بینک میں جاری مبینہ کرپشن کا فوری نوٹس لیا جائے، آپریشن منیجر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اسے فوری طور پر برطرف کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
