ایرانی حمایت یافتہ ہیکر گروپ "ہندلہ” کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپریل 2026 میں اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزی ہالیوی کے موبائل فون کو ہیک کر کے حساس معلومات حاصل کر لیں۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس مبینہ ہیکنگ کے دوران ذاتی اور پیشہ ورانہ نوعیت کا ڈیٹا لیک کیا گیا، جس میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ ان مواد میں مبینہ طور پر قطر اور اردن میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔
ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ لیک ہونے والی ویڈیوز میں ہرزی ہالیوی کو قطر میں امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اردن میں بھی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندلہ گروپ 2023 کے بعد منظر عام پر آیا اور اسے ایران سے منسلک سائبر گروپ سمجھا جاتا ہے، جو خاص طور پر اسرائیلی شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے "ہیک اینڈ لیک” حکمت عملی استعمال کرتا ہے۔
تاہم سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر ایسے دعوے پروپیگنڈا یا نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ہیکنگ دعویٰ، اسرائیلی جنرل کی خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف
