قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات محض سرکاری دورے نہیں ہوتے، بلکہ وہ عزم، قربانی اور ریاستی وقار کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بامعنی اور باوقار موقع اس وقت دیکھنے میں آیا جب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہیڈکوارٹرز فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ریاست کی سلامتی، شہداء کی قربانیوں اور بلوچستان کے پُرامن مستقبل کے عزم کی جھلک نمایاں تھی۔ہیڈکوارٹرز آمد پر آئی جی ایف سی نارتھ، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس استقبال میں نہ صرف عسکری نظم و ضبط کی جھلک تھی بلکہ اس جذبے کی بازگشت بھی سنائی دیتی تھی جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ بیدار رہتا ہے۔

دورے کا سب سے پُراثر لمحہ وہ تھا جب وفاقی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموش پتھر بھی قربانیوں کی داستان سناتے ہیں اور جہاں جھکے ہوئے سر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ آج کا امن ان جانوں کا مرہونِ منت ہے جو وطن کی مٹی پر نچھاور ہو گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی کہ ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیرِ داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ محض اعداد و شمار تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ایک ایسے خطے کی تصویر پیش کی گئی جو مشکلات کے باوجود استقامت، حوصلے اور قربانی کی روشن مثال بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد، عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنائی گئی حکمتِ عملی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ادارے ہمہ وقت متحرک اور چوکس ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی انتھک کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی نے اس دورے کو مزید تقویت بخشی، جو اس بات کی علامت ہے کہ وفاق اور صوبہ یکجا ہو کر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ امن کوئی اتفاق نہیں بلکہ قربانی، مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم کا ثمر ہے۔ فرنٹیئر کور کے جوان، سیکیورٹی ادارے اور ریاستی قیادت مل کر اس خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں جس میں بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔ اور جب تک یہ جذبہ زندہ ہے، کوئی اندھیرا اس سرزمین کے مستقبل کو تاریک نہیں کر سکتا۔
امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ
