امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایک “سنہری دور” میں داخل ہوچکا ہے اور ملک کے حالات مختصر وقت میں بدترین سے بہترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہوچکی ہیں اور غیرقانونی امیگریشن کو مؤثر انداز میں روکا گیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیرقانونی تارک وطن امریکا میں داخل نہیں ہوا، جبکہ قانونی امیگریشن کا نظام برقرار رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا جو پہلے معاشی مشکلات کا شکار تھا، اب دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے اور توانائی کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کا وعدہ پورا کیا گیا ہے۔ صدر کے مطابق انتظامیہ نے سرکاری اداروں میں ڈی ای آئی پروگرام ختم کر دیے ہیں اور ملک کی مجموعی صورتحال مضبوط ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ٹیکس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن اراکین کی حمایت سے ٹیکس میں کمی ممکن بنائی گئی، جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹپس اور اوور ٹائم آمدن پر ٹیکس ختم کیا گیا اور ٹیرف پالیسی کے باعث دیگر ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے انتخابی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کے لیے شہریت کا ثبوت ضروری ہونا چاہیے اور میل اِن بیلٹس کو محدود کیا جانا چاہیے، سوائے مخصوص حالات کے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس ووٹر آئی ڈی قوانین کی مخالفت کرتے ہیں۔
خطاب کے دوران متعدد ڈیموکریٹ اراکین خاموش دکھائی دیے، جبکہ صدر نے توانائی، سوشل سیکیورٹی اور میڈی کئیر کے تحفظ کا وعدہ بھی دہرایا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے اپنے پاور پلانٹس قائم کریں اور کانگریس سے سنگل فیملی گھروں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔
امریکا سنہری دور میں داخل ہوچکا، حالات بدترین سے بہترین ہوگئے: ڈونلڈ ٹرمپ
