پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے والے فنڈز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا کہ ایران کی سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکرٹری، پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعدد کمانڈروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان افراد پر مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایران کی قیادت کے لیے امریکا کا پیغام واضح ہے۔ ان کے بقول امریکی حکام جانتے ہیں کہ ایرانی خاندانوں سے چرائے گئے فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کیے جا رہے ہیں، اور امریکا ان رقوم اور ان کے ذمہ داروں کا تعاقب کرے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اگر ایرانی حکام تشدد روکنے اور عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کریں تو ابھی بھی وقت ہے، جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق امریکا آزادی اور انصاف کے مطالبے میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو نشانہ بنانے کے لیے تمام دستیاب اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 18 مزید افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ ایرانی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ یہ افراد پابندیوں کی زد میں آئے ایرانی مالیاتی اداروں کے ایک شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کا حصہ بتائے جاتے ہیں۔
یہ پابندیاں ایران کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات کے تسلسل میں سامنے آئی ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی بحالی کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو صفر تک لانا اور اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔
امریکا کی ایران پر احتجاج کی وجہ سے نئی پابندیاں
