Baaghi TV

سالانہ ایوارڈ تقریب، علم و ادب کی شمع اور دیارِ وارث شاہ کا تاریخی لمحات کا سفر،تحریر: دانیال حسن چغتائی

شعور و ادب کی روشنی جب کسی دھرتی سے پھوٹتی ہے تو وہ اس خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی ضیا پاشیوں سے پورے معاشرے کی روح منور ہو جاتی ہے۔ 16 اگست 2026 کا دن تاریخ کے اوراق میں سنہرے باب کی صورت درج ہو چکا ہے۔ یہ دن بابا محمد شہباز قادری میموریل آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام، پنجاب آرٹ کونسل ساہیوال ڈویژن کے اشتراک سے منعقدہ سالانہ ایوارڈ تقریب۔کا دن تھا۔ ایسی تقریب جو روایتی اجتماع نہیں بلکہ علم و ادب، صحافت اور فن کی عظمت کا اعتراف تھی۔

یہ پروقار تقریب پاکپتن کے تاریخی و ادبی قصبے ملکہ ہانس میں منعقد ہوئی ، وہ ملکہ ہانس جسے بابائے پنجابی نظم حضرت پیر وارث شاہ صاحبؒ کی دھرتی ہونے کا شرف حاصل ہے، جہاں بیٹھ کر انہوں نے ہیر۔جیسے لازوال شاہکار کو تخلیق کیا۔ عام طور پر یہ تاثر عام ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کی فکری اور ادبی تقریبات لاہور، کراچی یا اسلام آباد جیسے بڑے بڑے میٹروپولیٹن شہروں تک ہی محدود رہتی ہیں۔ تاہم، بابا محمد شہباز قادری میموریل آرگنائزیشن نے بانی و سرپرستِ اعلیٰ، گولڈ میڈلسٹ منصب علی وٹو کی قیادت میں اس سوچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چھوٹے علاقے میں اتنی عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا۔ چھوٹے علاقے میں اس پیمانے کی ادبی روایت کی بنیاد رکھنا بذاتِ خود تاریخی قدم اور روشن روایت کا آغاز ہے۔

برسرِ زمین موجود نہ ہونے کے باوجود، روح اور فکری وابستگی کے ناتے، میں خود کو اسی ہال کی کسی نشست پر محسوس کر رہا تھا۔ مجبوری اور مصروفیات کی بنا پر میں ذاتی طور پر اس تقریب میں شریک نہ ہو سکا، لیکن پاکستان بھر سے آئے ہوئے درجنوں ممتاز شعراء، ادباء، قلمکار، محققین، ناقدین اور اہل علم کی وہاں موجودگی نے یہ ثابت کر دیا کہ ادب کی کشش دوریوں کو بے معانی کر دیتی ہے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز قرآن مجید فرقان حمید کی بابرکت تلاوت اور افتتاحی کلمات سے ہوا۔ ہال میں گونجتی آواز تلاوت اور کلامِ الٰہی کی برکت نے پنڈال پر پروقار اور روحانی کیفیت طاری کر دی۔ آنے والے معزز مہمانوں کا استقبال روایتی گرمجوشی اور دلی احترام کے ساتھ کیا گیا۔ آرگنائزیشن کا اولین مقصد ہی قلم کی حرمت، ادب کی عظمت اور اہلِ قلم کی عزت کو بحال کرنا اور اس کا پاس رکھنا ہے۔

تقریب کا سب سے اہم اور مرکزی نقطہ ادبی امتیازات اور ایوارڈز کی تقسیم کا مرحلہ تھا۔ بابا محمد شہباز قادری میموریل آرگنائزیشن نے یہ عزم دہرا رکھا ہے کہ ہر سال ادب، علم، صحافت، فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے فروغ میں گرانقدر اور نمایاں خدمات انجام دینے والے ممتاز مفکرین اور ماہرین کو ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ اس سال کا سب سے معتبر اعزاز ستارۂ ادب ایوارڈ 2026 تھا، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں حسنِ کارکردگی، فکرِ رسا اور مثبت قدروں کے فروغ کی بنا پر نمایاں شخصیات کی نذر کیا گیا۔اس تاریخی تقریب میں راقم کے لیے بھی ستارۂ ادب ایوارڈ 2026 کا اعلان کیا گیا۔ اگرچہ میں اس حسین اور تاریخی لمحات کا بچشمِ خود شاہد نہ بن سکا اور اپنا ایوارڈ بذاتِ خود وصول کرنے سے قاصر رہا جو اب بذریعہ ڈاک مجھے موصول ہو جائے گالیکن اس عزت افزائی اور اعترافِ فن پر میں آرگنائزیشن کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ صاحبِ قلم کے لیے اس کا کام اور اس کی پذیرائی ہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔

تقریب کے آخری مراحل میں بانی و سرپرستِ اعلیٰ منصب علی وٹو اور انتظامیہ کے اراکین نے تمام شرکاء، ایوارڈ یافتگان اور ملک بھر سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں ادبی شمع روشن کرنے کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ آنے والے سالوں میں اور زیادہ منظم انداز میں جاری رہے گا۔

میں بابا محمد شہباز قادری میموریل آرگنائزیشن کی پوری انتظامی ٹیم، تمام اراکین اور بالخصوص ایوارڈ حاصل کرنے والی تمام ممتاز شخصیات کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جن لوگوں نے سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے ملکہ ہانس پہنچ کر اس تقریب کو رونق بخشی، وہ سب داد کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ ادب و ثقافت کا یہ سفر آئندہ بھی اسی آب و تاب سے جاری رہے گا اور ملکہ ہانس کی یہ نئی روایت ان گنت نئے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔

More posts