لاہور:عمران خان بہت پریشان ہیں ان کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ ان کو نااہلی سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور وہ نااہل ہوکررہیں گے ، اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بہت سی خبریں ہیں کہ عمران خان کے ساتھ بہت کچھ ہونے والا ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچ جائیں گے مگرایسا نہیں ہوگا ، ان کا مزید کہنا تھاکہ عمران خان نے جو بویا وہی کاٹنا پڑے گا
پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے موجوہ حالات کا ذمہ دار عمران خان ہے، اس کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال سے جواس شخص نے جو حال کیا ہے اس ملک کا وہ سب جانتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ اس شخص کی سوچ کا اندازہ لگائیں کہ حدیث رسول ہے کہ بچے کا نام سوچ سمجھ کررکھیں کیوںکہ نام کےاندرخصوصیات ہوتی ہیں اور شخصیت پر اس کا اثرہوتا ہے ، لیکن اس شخص نے اپنی سیاست کا نام سونامی رکھا ، سونامی جب آتا ہے توپھرپیچھے تباہی چھوڑ جاتا ہے اور اس کی حکومت بھی تباہی چھوڑ کرگئی ہے
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صرف ملک ہی نہیں بلکہ صدرمملکت عارف علوی صاحب بھی اس شخص سے تنگ ہیں کھی کس سمری پردستخط کے لیے بلاتے ہیں تو کبھی کس کام کے لیے، ان کا کہنا تھا کہ وہ بندہ اس سے تنگ آگیا ہے اورہوسکتا ہے کہ وتنگ آکراستعفے ہی دے دے
مبشرلقمان کہنا تھاکہ پچھلے ایک دو دن سے لاہورزمان پارک میں عمرانخان مختلف علاقوں کے وفودسے بات چیت کررہیں اوران کو پابند کررہے ہیں کہ وہ ہرروز اپنے اپنے علاقے سے چار سے پانچ ہزار تک پارٹی ورکروں کو بنی گالا بھیجیں کیوں کہ عمران خان لاہور چھوڑ کر بنی گالا منتقل ہورہے ہیں اور وہاںتو اب سننے میں آرہا ہے کہ بڑے بڑے محفوظ بنکرز بن رہے ہیں
مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ کل کی مینٹنگ میں تو شاہ محمود قریشی ناراض ہی ہوگئے تھے پھران کو منا کرلایا گیا ، شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی نااہلی کی صورت میں پارٹی چیئرمین بنیں، اور بھی لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارٹی میں اس وقت شدید اختلافات ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پارٹی میں مزید دراڑیں پڑجائیں
مبشرلقمان کا کہنا تھا فواد چوہدری کی بیوی اب متحرک ہے وہ سمجھتی ہےکہ فواد کے نااہل ہونے کی صورت میں اس کو ٹکٹ ملے جبکہ فواد چوہدری کے کزن فیصل چوہدری بھی امیدوار ہیں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ان کو چریل نے کچھ اہم خبریںدی ہیںکہ عمران خان اب نہیں بچ سکے گا اوران کو کسی نہ کسی طرح نااہل ہونا پڑے گا جس کے لیے بہت سا کام ہوچکا ہے
