جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک پر مشتمل تنظیم آسیان نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی 15 روزہ جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آسیان وزرائے خارجہ نے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک وقتی سیز فائر کو پائیدار حل میں بدلنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری رکھیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں آسیان ممالک نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیان وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھیں تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنا ناگزیر ہے۔
آسیان ممالک نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ وہاں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک توانائی کی ضروریات کے لیے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس اہم تجارتی راستے کا کھلا اور محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے۔
مزید برآں آسیان نے پاکستان کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران اس موقع کو ضائع نہیں کریں گے اور مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کا مستقل حل تلاش کریں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام آئے گا۔
آسیان کا امریکا ایران جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا مطالبہ
