خیبر سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کمسن بچوں کو اسلحہ تھامے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو درحقیقت ایک اسٹیجڈ میڈیا اسٹنٹ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے، نہ کہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنا۔
مختصر ویڈیو کلپ میں بچوں کو ایک محدود اور چھوٹے سے علاقے میں دکھایا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کے مناظر محض تاثر قائم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ چند فٹ کے اسٹیج کیے گئے مناظر کی بنیاد پر کسی خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانا درست نہیں۔اس ویڈیو میں شامل کمسن بچوں کو معمولی رقم یا عیدی دے کر شامل کیا گیا۔ ایک منظر میں ایک بچے کو ہتھیار کو چومتے ہوئے دکھایا گیا، جودہشت گردی کی خطرناک تشہیر ہے، یہ اقدام نہ صرف بچوں کا استحصال ہے بلکہ شدت پسندی کو جذباتی رنگ دے کر پھیلانے کی کوشش بھی ہے۔
اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ کہاں ہے؟صوبائی حکومت کیوں خاموش ہے؟علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی (ایم این ایز اور ایم پی ایز) نے اب تک کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ سول اداروں کو فوری طور پر متحرک ہو کر ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر امن و امان کا مسئلہ فوج کا کام نہیں ہوتا۔مقامی حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی بھی واضح ذمہ داریاں ہیں، اور سول نظام کی ناکامی کو سیکیورٹی اداروں پر منتقل کرنا مناسب نہیں۔
شدت پسند گروہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وسیع رقبے (آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد) میں چند فٹ کے علاقے میں ویڈیو بنا کر اسے پورے ملک میں سیکیورٹی کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا ایک پرانا طریقہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے گروہ اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے میڈیا تھیٹرکس پر انحصار کرتے ہیں، جن میں مختصر ویڈیوز،بچوں کا استعمال،جذباتی مناظر،کنٹرول کا جھوٹا تاثر شامل ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو دہشت گردی کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔یہ نہ صرف کمسن افراد کا استحصال ہے بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہے، جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے، نہ کہ بغیر تحقیق کے پھیلانا۔
