قندھار میں البدر کور ہیڈکوارٹر پر حملہ، متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں
پاک فضائیہ نے گزشتہ شب پھر کابل میں ٹی ٹی اے رجیم کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، قندھار میں کور ہیڈکوارٹر ،ائیرپورٹ اور اسلحہ کے ذخیروں کو تباہ کرنے کے علاؤہ پکتیکا میں دہشتگردوں کے کیمپ تباہ کر دیے ۔ فضائی حملوں میں ٹی ٹی اے اہلکار ،داعش خراسان ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد مارے گئے ۔ افغانستان کی یہ فوجی چھاؤنیاں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔
سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیرگردش ہے کہ قندھار میں البدر کور ہیڈ کوارٹر کے کور کمانڈر مہراللہ حماد، چیف آف سٹاف حزب اللہ افغان اور ڈپٹی کمانڈر ولی جان حمزہ سمیت متعدد کمانڈر ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جن میں بیشتر کے ہلاک ہونے جبکہ ان تینوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہیں قندھار میں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہےتاہم دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں تاحال ہلاکتوں اور کمانڈر کے زخمیوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی
پاک فضائیہ نے کابل میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا، القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد ہلاک ہو گئے،ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل کے علاقہ قصبہ میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا،جس کے نتیجے میں متعدد القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ شاہینوں نے پکتیا میں طالبان کے فوجی ٹھکانوں کو زمین بوس کردیا،پاک فضائیہ نے پکتیا کے مختلف علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی ہتھیار اور سازوسامان تباہ ہو گئے۔
دوسری جانب کتیکا سے کابل جانے والا قافلہ آئی ای ڈی دھماکے کی زد میں آگیا، دو دہشتگرد کمانڈر ہلاک، متعدد زخمی؛ذرائع کے مطابق برمل کے علاقے میں کالعدم ٹی ٹی پی کی اہم شخصیات کے قافلے کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو کمانڈر ہلاک جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مزید بتایا جا رہا ہے کہ یہ قافلہ کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا۔
