عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے بوشہر ایٹمی پلانٹ کے قریب ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے نیوکلیئر سیفٹی کو حقیقی اور سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر ایسے حملے جاری رہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کسی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین اور حفاظتی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔
آئی اے ای اے کے حکام نے واضح کیا کہ بوشہر پلانٹ کے قریب کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی تابکاری کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے، جس سے نہ صرف ایران بلکہ پڑوسی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی واقعے کے نتیجے میں انسانی جانوں، ماحولیات اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جوہری پلانٹس انتہائی حساس تنصیبات ہوتے ہیں اور ان پر معمولی نقصان بھی بڑے پیمانے پر خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ جنگی حالات میں بھی ایسی تنصیبات کو محفوظ رکھا جائے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں۔
ایران کے بوشہر پلانٹ پر حملہ، نیوکلیئر سیفٹی کو سنگین خطرہ
