Baaghi TV

آسٹریلیا کا گرم ترین شہر،45 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی ،ٹائر پگھلنے لگے

آسٹریلیا کے مغربی علاقے ویسٹرن آسٹریلیا کے پلبارا ریجن میں واقع قصبہ ماربل بار کو ملک کے گرم ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کے باسی شدید گرمی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں اور اسے جھیلنے کے بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اس وقت ماربل بار سمیت آسٹریلیا کے کئی دیہی علاقوں کو 2019–20 کے بعد کی بدترین ہیٹ ویو کا سامنا ہے۔مغربی آسٹریلیا کے علاقے پلبارا میں واقع یہ چھوٹا سا قصبہ، جہاں آبادی تقریباً 900 افراد پر مشتمل ہے، پورے ملک میں شدید ترین گرمی کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ اس ہفتے آسٹریلیا میں ہیٹ ویو کے دوران ماربل بار میں درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ ہفتے یہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ کو بھی چھو سکتا ہے۔

ماربل بار میں طویل گرمی کی لہریں معمول کی بات ہیں۔ دسمبر 2023 میں یہاں درجۂ حرارت 49.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماربل بار کمیونٹی ریسورس سینٹر کے کوآرڈینیٹر باز ہیریس کے مطابق،
“ہم سال کے چھ سے سات ماہ اسی طرح کی شدید گرمی برداشت کرتے ہیں، یہ واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔”ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ گرمی سے نمٹنے کے عادی ہو چکے ہیں۔“زیادہ تر لوگ اس حقیقت کو قبول کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی جنرل اسٹور تک صرف 100 میٹر بھی چل کر جائے تو سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں پانی کی بوتل لازمی ہوتی ہے۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ رات کو ٹھنڈی جگہ پر اچھی نیند لی جائے۔ اگر چھ، سات گھنٹے کی ٹھنڈی نیند مل جائے تو دن گزارا جا سکتا ہے۔”

اعداد و شمار کے مطابق، یکم جنوری کے بعد سے ماربل بار میں دن کا درجۂ حرارت 42 ڈگری سے کم نہیں ہوا، جبکہ بدھ کے روز یہ 47 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔ گزشتہ موسمِ گرما میں قصبے کو مسلسل 26 دن تک 43 ڈگری سے زیادہ درجۂ حرارت کا سامنا رہا۔تاریخ کی سب سے مشہور ہیٹ ویو 1923–24 میں آئی تھی، جب 160 دن تک مسلسل درجۂ حرارت 37.8 ڈگری (100 فارن ہائیٹ) سے اوپر رہا۔

باز ہیریس کا کہنا ہے کہ اگرچہ چھ نسلوں سے لوگ اس قصبے کو اپنا گھر کہتے آئے ہیں، لیکن باہر سے آنے والوں کے لیے یہاں رہنا آسان نہیں۔“یہاں اسٹاف کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔ لوگ نوکری کے لیے آتے ہیں، لیکن جب 12 سے 15 دن تک مسلسل 40 ڈگری سے زیادہ گرمی پڑتی ہے تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون رکے گا اور کون واپس چلا جائے گا۔”

شدید گرمی کا اثر صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ پلبارا ریجن میں استعمال ہونے والے لوہے کی کانوں کے بڑے ٹرک بھی اس موسم سے متاثر ہوتے ہیں۔“جب یہ ٹرک چار ٹریلرز کے ساتھ آئرن اور بھر کر چلتے ہیں تو سڑکوں پر بچھا تارکول پگھلنے لگتا ہے اور سڑک اکھڑ جاتی ہے۔ یہ دیکھنا واقعی حیران کن ہوتا ہے۔

ادھر آسٹریلیا کی کئی ریاستوں، بشمول ساؤتھ آسٹریلیا، وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز میں بھی ہیٹ ویو وارننگ جاری ہے، جہاں درجۂ حرارت معمول سے 15 ڈگری تک زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ساؤتھ آسٹریلیا کے شہر پورٹ آگسٹا، جو اسپینسر گلف کے کنارے واقع ہے، وہاں کی میئر لنلے شائن کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی شدید موسم سے نمٹنے کی عادی ہے۔“اگر میں ابھی شہر میں گاڑی چلا کر نکلوں تو مرکزی کاروباری علاقے میں غیر معمولی خاموشی ہوگی، کیونکہ یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ ایسے حالات میں کیسے احتیاط کرنی ہے۔”

پورٹ آگسٹا، جو “خشک ترین ریاست کے خشک ترین براعظم کا خشک ترین شہر” کہلاتا ہے، بدھ کے روز 46 ڈگری تک پہنچ گیا، یہاں بھی شدید گرمی کی واضح علامت سڑکوں پر نظر آتی ہے۔“اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بٹومین پگھلنے لگتا ہے، جسے ہم ’بلیڈنگ روڈز‘ کہتے ہیں۔ یہ ہر سال ہوتا ہے۔”میئر کے مطابق سب سے اہم بات کمزور اور بزرگ افراد کا خیال رکھنا ہے۔“ہم ایک مضبوط اور باہمی خیال رکھنے والی کمیونٹی ہیں۔ مشکل وقت میں ہم ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہیں، اور یہی ہماری اصل طاقت ہے۔”

ماربل بار صرف گرمی کے لیے ہی مشہور نہیں بلکہ اس کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ یہ قصبہ انیسویں صدی کے آخر میں سونے کی تلاش (گولڈ رش) کے دوران آباد ہوا۔یہاں کا مشہور آئرن کلاڈ ہوٹل 1892 سے آج تک مقامی افراد، کان کنوں اور سیاحوں کی میزبانی کر رہا ہے۔قصبے کا نام قریب بہنے والے کووگن دریا میں موجود ایک جسپر پتھر کی پٹی سے لیا گیا، جسے ابتدا میں غلطی سے سنگِ مرمر (ماربل) سمجھا گیا تھا۔

More posts