Baaghi TV

عیدالفطر کے موقع پر آسٹریلوی وزیراعظم کو عوامی احتجاج کا سامنا

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیس کو جمعہ کے روز عیدالفطر کی نماز کے موقع پر شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ مغربی سڈنی کی سب سے بڑی مسجد کا دورہ کرنے پہنچے۔

نماز عید کے دوران مظاہرین نے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں “باہر نکل جاؤ” کے نعرے لگائے، جبکہ بعض افراد نے انہیں “نسل کشی کے حامی” بھی قرار دیا۔عینی شاہدین کے مطابق، واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیراعظم البانیز اور وزیر داخلہ نماز کے لیے موجود افراد کے ساتھ شریک تھے۔ تقریباً 15 منٹ بعد مظاہرین نے کارروائی میں خلل ڈال دیا۔منتظمین نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے مجمع سے اپیل کی کہ وہ پُرامن رہیں۔ ایک منتظم نے کہا“براہِ کرم سکون رکھیں، آج عید کا دن ہے اور خوشی کا موقع ہے۔”

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم انتھونی البانیس نے کہا کہ مجموعی طور پر تقریب “انتہائی مثبت” رہی، اور 30 ہزار کے مجمع میں چند افراد کے احتجاج کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے اسلامی تنظیم حزب التحریر کو کالعدم قرار دینا بھی ہو سکتی ہے، جسے نفرت انگیز گروہ قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا میں حکومت کو غزہ جنگ کے معاملے پر مسلم اور یہودی دونوں کمیونٹیز کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، جہاں حکومت نے ایک طرف فلسطینیوں کے لیے ہمدردی اور جنگ بندی کی حمایت کی، تو دوسری جانب اسرائیل کے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل فروری میں بھی سڈنی میں اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جب اسرائیلی صدر نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 27 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

More posts