شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ بار بار شکایات کے باوجود تاحال کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ مغل پورہ کے علاقے گلشن پارک میں آوارہ کتوں کے دو بچوں پر خوفناک حملے۔ اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ آوارہ کتوں کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جائیں۔
مغل پور ہ کے قریب حبیب پارک اور گلشن پارک کے علاقوں میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آوارہ کتوں کے غول کے غول گلیوں میں پھرتے اور بھونکتے دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں کئی بچوں اور بزرگوں پر کتوں نے شدید حملے کیے ہیں ۔ خاص طور پر نماز فجر کے وقت نمازیوں کا مساجد میں جانا محال ہو چکا ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے بچے مسجد جاتے ہوئے ڈرتے ہیں اور والدین بھی خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ مغل پورہ کے علاقے حبیب پارک میں جامع مسجد قبا کے قریب چونکہ کچھ کھلی جگہ موجود ہے اس لیے وہاں آوارہ کتوں نے خاص طور پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں جس سے مسجد آنے والے نمازیوں اور قرآن پڑھنے والے بچوں کو انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ حبیب پارک اور گلشن پارک کے علاقوں میں آئے دن بچوں اور بزرگوں پر آوارہ کتوں کے حملوں اور کاٹنے کےو اقعات بھی پیش آئے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں اور مساجد میں قرآن پڑھنے کے لیے بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ان علاقوں میں کتوں کی بھرمار ہے جبکہ شکایت کے باوجود شنوائی نہ ہونے پر شہری انتہائی بے بسی سے دوچار ہیں۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اس خطرناک صورت کا فوری نوٹس لے اور گلیوں میں جگہ جگہ پھرنے والے آوارہ کتوں سے لوگوں کی جان چھڑائی جائے۔
واضح رہے کہ لاہور میں آوارہ کتوں کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے وبال جان بن گئی ہے اور ہر روز کتوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے کئی لوگ ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے ڈھائی سال میں آوارہ کتوں کے حملوں میں صرف پنجاب میں پانچ لاکھ سے زائد افرادزخمی ہوئے ہیں۔ ایک سال میں صرف لاہور میں بیس ہزار کے قریب آوارہ کتوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔
