آزاد کشمیر میں شکست فاش کے بعد ن لیگ ایک بار پھردھاندلی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ یہ تو مقابلہ ہی یک طرفہ تھا۔باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں 45میں سے 26نشستیں حاصل کر کے دو تہائ اکثریت حاصل کر لی ہے۔جبکہ پی ٹی آئ کی اتحادی مسلم کانفرنس کی ایک سیٹ ملا کر اس کے پاس کُل 27سیٹیں ہو جاتی ہیں۔
ان انتخابات میں پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ نواز لیگ جو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی،وہ تیسرے درجے کی پارٹی بن کے رہ گئی۔
ن لیگ کی طرف سے یہاں انتخابی مہم مریم صفدر کی نگرانی میں چلائ گئی،جو مخالفین پر زاتی حملوں اور کیچڑ اُچھالے جانے کی وجہ سے مکمل طور پر بیک فائر کر گئی۔خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ اور اسکے بچوں کو یہودی کے نواسے کہنے والی بات کو اکثر لوگوں نے پسند نہیں کیا۔مریم کی بدتمیزیوں کا جواب بھی اسی طرح آیا۔پی ٹی آئ کے علی امین گنڈا پور کی زبان بھی قدرے سخت تھی مگر اُس نے جو کچھ کہا وہ مفہوم کے لحاظ سے قطعا” غلط نہ تھا۔
مریم صفدر جسے کراوڈ پُلر کہا جا رہا تھا،اُس کے اکا دُکا جلسوں میں لوگ شائد تماشہ دیکھنے تو آۓ مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔
دوسری طرف عمران خان کے چند جلسوں نے ہی بازی پلٹ دی۔
آزاد کشمیر میں کئے جانے والوں سرویز میں یہ بات پہلے ہی دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی کہ تحریک انصاف کشمیر کا میدان مارنے جا رہی ہے۔
عمران خان اس وقت نہ صرف بلا شرکت غیرے آزاد کشمیر کا مقبول ترین لیڈر ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگ اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں،نہتے مظلوم کشمیریوں کی تمام تر اُمیدیں اب عمران خان سے بندھی ہیں۔اب عمران خان اور اُس کی حکومت کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھارت کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے آزاد کروانے کے لئے کوئ دقیقہ فرگزاشت نہ کرے۔
گلگت بلتستان میں عبرت ناک شکست کے بعد آزاد کشمیر میں بھی شرمناک شکست ملنے کے بعد نواز لیگ کے پاس دھاندلی کے شور شرابے کے پیچھے چھپنے کے سوا کوئ دوسرا راستہ نہیں۔
اس انتخاب میں نواز لیگ کوجہاں مریم کی سطحی قسم کی تقریروں نے نقصان پہچایا،وہیں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب سے پاکستان دشمن شخص سے ملاقات ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئ جبکہ آزاد کشمیر میں فاروق حیدر کی کارکردگی بھی صفر تھی۔
اسکے باوجود نواز لیگ کا دھاندلی کا راگ جاری ہے،مگر دھاندلی کا یہ چورن بکنے والا نہیں ہے۔پڑھے لکھے کشمیریوں نے اپنے مسقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کیا ہے۔
روایتی طور پر بھی آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان میں برسر اقتدار جماعت ہی جیتتی ہے،جیسا کہ ماضی میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیتتی رہی ہیں تو اس بار پاکستان تحریک انصاف کا جیتنا کیوں اچنبھے کی بات ہے؟
کیوں مریم صفدر کہہ رہی ہے کہ میں ان انتخابات کے نتائج بلکل ایسے ہی تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ 2018کے عام انتخابات کو نہیں کیا تھا؟
کیوں مریم اورنگ زیب آزاد کشمیر کے انتخابات کو 2018کے انتخابات کا ری پلے کہہ رہی ہے؟
یہ صرف شرمندگی چھپانے کی کوشش ہے۔
اگر شکست تسلیم کر لی جاتی تو شائد ان کی کچھ عزت رہ جاتی۔لوگ اب جان چکے ہیں کہ نواز لیگ صرف ان انتخابات کو شفاف تسلیم کرتی ہے،جن میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں ہر انتخاب کے بعد دھاندلی دھاندلی کا واویلہ تو کرتی ہیں مگر حکومت اور عمران خان کی بارہا کی جانے والی درخواست پر الیکشن اصلاحات کے لئے راضی نہیں ہوتیں،
جو واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ جماعتیں کسی ایجنڈے پر چل رہی ہیں۔
اس ایجنڈے کے زریعے تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں،جو ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان کے حامل ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ارض پاک کو ہر قسم کے فتنوں اور
شر انگیزیوں سے محفوظ رکھے۔آمین
@lalbukhari
آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ تحریر سید لعل بُخاری
