صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے، طاقتور کے سامنے سوال اٹھانے اور کمزور کی آواز بننے کا عزم ہے۔ باغی ٹی وی نے گزشتہ 14 برسوں میں اسی عزم کو اپنی پہچان بنایا۔ یہ وہ سفر ہے جو مشکلات، دباؤ، تنقید اور آزمائشوں سے گزرتا ہوا آج اعتماد، وقار اور جرات کی علامت بن چکا ہے۔
باغی ٹی وی کا قیام ایک ایسے دور میں ہوا جب روایتی صحافت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نئی کروٹ لے رہا تھا۔ اس ادارے نے ابتدا ہی سے منفرد اور بے باک انداز اپنایا۔ یہاں خبر کو سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا گیا، اور رائے کو دلیل اور تحقیق کا لباس پہنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نے بہت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔
ان 14 برسوں میں باغی ٹی وی نے سیاسی، سماجی، عدالتی اور عوامی مسائل کو نہایت جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد سے سوال کرنا ہو یا گلی محلوں میں بسنے والے عام شہری کے مسائل سامنے لانے ہوں، باغی ٹی وی نے ہمیشہ توازن، سچائی اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا۔ کئی مواقع پر دباؤ بھی آیا، تنقید بھی ہوئی، مگر سچ کہنے کا سفر کبھی رکا نہیں۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی طاقت اس کی آزاد صحافت ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا گیا، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور صحافت کو صرف خبر نہیں بلکہ شعور بیداری کا ذریعہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین اور قارئین نے اس ادارے پر بھروسا کیا اور اسے اپنا میڈیا پلیٹ فارم مانا۔ڈیجیٹل دور میں باغی ٹی وی نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا۔ ویب، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز پر فعال موجودگی نے اسے نوجوان نسل سے جوڑا، جبکہ تجربہ کار تجزیوں نے سنجیدہ حلقوں میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ یہ امتزاج باغی ٹی وی کی کامیابی کا ایک اہم راز ہے۔
آج جب باغی ٹی وی اپنی صحافتی خدمات کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ لمحہ محض سالگرہ کا نہیں، بلکہ ایک جدوجہد کے اعتراف کا ہے۔ یہ ان تمام صحافیوں، رپورٹرز، اینکرز اور کارکنوں کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے اس ادارے کو معتبر بنایا۔دعا ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی سچ، حق اور عوامی آواز کے ساتھ کھڑا رہے، صحافت کے اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرے اور آنے والے برسوں میں مزید مضبوط، بااثر اور باوقار کردار ادا کرے۔
باغی ٹی وی کو 14ویں سالگرہ مبارک ، سچ کہنے کا سفر یونہی جاری رہے۔
پاکستانی صحافت میں چند نام ایسے ہیں جو محض اینکر یا رپورٹر نہیں بلکہ ایک دبنگ آواز، ایک مؤقف اور ایک فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کا شمار بھی انہی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں کی محنت، تحقیق اور جراتِ اظہار سے صحافت کو ایک نیا زاویہ عطا کیا۔مبشر لقمان کی صحافتی پہچان ان کی بے لاگ گفتگو، گہری تحقیق اور دوٹوک سوالات ہیں۔ وہ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ طاقتور حلقوں سے سوال کرنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ ان کے پروگرامز اور تجزیے محض خبروں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ پسِ پردہ حقائق، قومی مفادات اور عوامی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ سنجیدگی سے لی بھی جاتی ہے۔انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنا ان کی لغت میں شامل نہیں رہا۔ سیاسی معاملات ہوں، حکومتی پالیسیاں، خارجہ امور یا سماجی ناانصافیاں مبشر لقمان نے ہمیشہ دلیل، دستاویز اور حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی۔ یہی طرزِ عمل انہیں ایک عام اینکر سے ممتاز بناتا ہے۔مبشر لقمان کی ایک بڑی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت کو عوامی شعور سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے پروگرامز میں سوالات وہی ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کے دل میں پل رہے ہوتے ہیں۔ وہ اشرافیہ کی زبان میں نہیں بلکہ عوام کی زبان میں بات کرتے ہیں، اور یہی بات انہیں عوام کے قریب لے آتی ہے۔
اس فکری اور اعتدال پسند صحافت کے پیچھے ایک مضبوط ادارتی سوچ کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے ایڈیٹر ممتاز اعوان کا کردار قابلِ تحسین ہے، جن کی ادارت میں مواد کو توازن، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز اعوان کی ادارتی بصیرت نے صحافتی مواد کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ اسے اخلاقی حدود میں بھی رکھا، جو آج کے تیز رفتار اور سنسنی خیز میڈیا میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
