Baaghi TV

باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت. تحریر:رخسانہ سحر

ایسے دور میں جب صحافت طاقت کے ایوانوں کی خوشنودی اشتہارات کی مجبوری اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑی نظر آتی ہے، وہاں باغی ٹی وی جیسے ادارے کا چودہ برس تک ڈٹے رہنا محض ایک چینل کی کامیابی نہیں بلکہ ضمیر کی فتح ہے۔12 جنوری کو باغی ٹی وی اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے۔ یہ وہ برس ہیں جو دباؤ دھمکیوں، پابندیوں اور معاشی رکاوٹوں سے عبارت ہیں، مگر اس کے باوجود سچ بولنے کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔

باغی ٹی وی کے سی ای او سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان وہ نام ہیں جن کی صحافت ہمیشہ سوال اٹھانے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے جڑی رہی ہے۔ انہوں نے کبھی صحافت کو محض پیشہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک اخلاقی فریضہ کے طور پر نبھایا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار صحافی کی بطور ایڈیٹر موجودگی نے باغی ٹی وی کے مواد کو توازن، تحقیق اور وقار عطا کیا۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر بیچی نہیں جاتی نہ ہی سچ کو پیکجنگ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں صحافت وہی ہے جو عوام کے سوالات محرومیوں اور سچائیوں کو آواز دیتی ہے چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔یہ چینل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کا اصل کام طاقتور کو خوش کرنا نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرنا ہے۔ باغی ٹی وی نے بارہا ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی کھری اور بےباک صحافت ممکن ہے۔

چودہ برس کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ باغی ہونا انتشار نہیں بلکہ سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ہم باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی سچ جرات اور عوامی شعور کی شمع روشن رکھے گا۔
باغی ٹی وی، جہاں صحافت اب بھی سر نہیں جھکاتی۔

More posts