ایمان مزاری کو جہاں ایک طرف انہیں عبوری ریلیف ملا ہے، وہیں عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانونی عمل سے فرار ممکن نہیں ۔ عدالت کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر مقدمے کا سامنا کریں، نہ کہ عدالتوں سے مسلسل بہانے تلاش ہوتے رہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ اس عمل میں سستی یا عدالتی احکامات کی عدم تعمیل نے مقدمے کو پیچیدہ بنایا ہے، اور اسی لیے عدالت شاید سختی سے یہ پیغام دیتی ہے کہ آئندہ حاضری یقینی بنائی جائے ورنہ حفاظتی ضمانتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مختصر یہ کہ اب مزاری کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر قانونی عمل کو آگے بڑھائیں، کیونکہ عدلیہ ہر صورت قانون کی بالا دستی چاہتی ہے، نہ کہ عدالتی عمل میں بے ترتیبی یا تاخیر۔
22 اگست سے اب تک اس مقدمے میں جو رعایت، صبر اور التوا ملزمان کو دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام۔
بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی، اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے’ یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔
کیس کا بار بار کال ہونا غیر معمولی نہیں، بلکہ اس لیے لازم تھا کیونکہ ملزمان مکمل طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتے تھے۔آٹھ وکالت ناموں کے باوجود ملزم کا خود کراس ایگزیمینیشن کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد دفاع نہیں، کارروائی کو طول دینا تھا۔
شور شرابہ، بدتمیزی، عدالت سے فرار، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بدسلوکی’ یہ رویہ کسی “سیاسی اختلاف” نہیں بلکہ عدالتی عمل کی صریح تضحیک ہے۔طبیعت کی خرابی کے نام پر بار بار استثنا، بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے، ٹرائل میں دانستہ رکاوٹ ‘ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ دہشتگرد تنظیموں اور کالعدم عناصر کے بیانیے کو amplify کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ یہ رائے نہیں، PECA کے تحت جرم ہے۔
