پی سی بی کی نیشنل سلیکشن کمیٹی نے لاہور میں پریس کانفرنس کی، عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈ کپ میں توقعات کے مطابق نتائج نہیں آئے، ٹیم کو کم سے کم سیمی فائنل میں جانا چاہیے تھا، ورلڈ کپ کیلئے بہت پرامید تھے، افسوس ہے نتائج نہیں آئے، پاکستان کرکٹ ٹیم کسی کی ضد نہیں، سابق کرکٹرز ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر کوچ فیصلہ کرتے تھے، پلئینگ الیون سلیکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ہوتی تھی، ہم نے پروفیشنل کوچ لانا تھا، ٹیم بنانے کیلئے آزادی ملنی چاہیے، ہمیشہ کوچ کو ساتھ بٹھاتے ہیں تاکہ مشاورت شامل ہو، مقصد ہے بہترین ٹیم کی سلیکشن ہو۔عاقب جاوید نے کہا کہ ہیڈ کوچ سے مل کر مستقبل کا پلان بنائیں گے، ٹیمیں متفقہ طور پر تشکیل دی جاتی ہیں، نوجوان کھلاڑی پرفارمنس کے بعد ٹیم میں آئے، کسی ایک پرفارمنس پر کسی کو کھلاسکتے ہیں نہ ہی نکال سکتے ہیں۔سلیکشن کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ بابراعظم فٹ نہ ہونے کی وجہ سے بنگلادیش سیریز، نیشنل ٹی 20 نہیں کھیل رہے، ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد بابراعظم اور فخرزمان کی انجریز سامنے آئیں، بابراعظم اور فخرزمان کی انجریز کی انکوائری کرائیں گے، فخر زمان ابتدائی میچز کیوں نہیں کھیلے؟ یہ کوچ بتاسکتے ہیں۔
سرفراز احمد نے کہا کہ تین سے چار وکٹ کیپر لائن میں ہیں، غازی غوری کو محمد رضوان کا متبادل دیکھ رہے ہیں، شامل حسین سے متعلق بہت لوگ بات کررہے ہیں، شامل حسین کی قائداعظم ٹرافی سمیت دیگر ٹورنامنٹس میں پرفامنس اچھی ہے۔
قبل ازیں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے سلیکشن کمیٹی نے ملاقات کی، چیئرمین نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا۔محسن نقوی نے کہا کہ بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے فرائض سرانجام دیں، سلیکشن کمیٹی کسی کی تنقید کی پرواہ نہ کرے، میری مکمل سپورٹ سلیکشن کمیٹی کے ساتھ ہے۔سلیکشن کمیٹی کے ممبران مصباح الحق، سرفراز احمد، اسد شفیق اور عاقب جاوید نے اعتماد کرنے پر چیئرمین پی سی بی سے اظہار تشکر کیا۔
