Baaghi TV

بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

More posts