سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
