حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں حالات کے معمول پر آنے کا اعلان کیا ہے، تاہم کوئٹہ کے بعض علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق کوئٹہ میں آپریشن کے دوران تقریباً 100 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں انٹرنیٹ سروس آج بحال کر دی جائے گی، تاہم جہاں آپریشن جاری ہے وہاں عارضی طور پر انٹرنیٹ سروس متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب نوشکی اور مستونگ میں جیل پر حملوں کے بعد تقریباً 60 قیدی فرار ہو گئے ہیں، جن کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پنجگور اور ہرنائی میں کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 216 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جس سے بھارتی پراکسی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا اور ان کی قیادت و کمانڈ سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
صوبائی حکومت نے نوشکی میں نقصان زدہ سڑکوں کی بحالی کا کام بھی شروع کر دیا ہے تاکہ عام شہریوں کی نقل و حمل پر اثر کم سے کم ہو۔ بلوچستان حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے۔
بلوچستان میں حالات معمول پر، کوئٹہ میں سیکورٹی آپریشن جاری
