بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن بی ایل اے کے 61 دہشتگرد ہلاک کردئے ۔ بی ایل اے کا ہیروف 2 مکمل طور پر فیل ہوگیا ۔ جب کہ 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ 48 گھنٹوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔
ابتدائی حملہ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس وین کو نشانہ بنانے سے شروع ہوا۔ چند ہی منٹ بعد نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر، دالبندین کے ایف سی کمپاؤنڈ، پسنی میں کوسٹ گارڈ چوکی اور گوادر کی لیبر کالونی سمیت بارہ مقامات پر فائر اور خودکش حملے کیے گئے۔ ہر مقام پر مؤثر جوابی فائر کے باعث دہشت گرد پسپا ہوئے اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ہیروف 2‘‘ بی ایل اے کی ایک نئی اصطلاح تھی جس کے ذریعے وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر منصوبہ پہلی ہی جھڑپ میں خاک میں مل گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں متعدد عسکریت پسند افغانستان میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے براہِ راست ہدایات لے رہے تھے، جب کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ بھی تھا۔
فائر فائٹ ختم ہوتے ہی صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں خون کے مراکز ہائی الرٹ پر ہیں۔ مواصلاتی نگرانی سخت کی جا چکی ہے جبکہ حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس معطل ہے تاکہ دہشت گردوں کی باہمی رابطہ کاری روکی جا سکے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ شہری علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں اور قومی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 108 عسکریت پسندوں کا نقصان بی ایل اے کے فیلڈ نیٹ ورک، اسلحہ رسد اور مقامی سطح پر بھرتی کے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ پچھلے سال کے دوران تنظیم کی سرگرمیوں میں افغان سرزمین اور غیر ملکی فنڈنگ کے تذکرے تواتر سے آ رہے ہیں، جنہیں پاکستان سختی سے اجاگر کرتا رہا ہے۔
