ڈھاکا: بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے اختتام کے بعد ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری و ابتدائی نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ متعدد اہم نشستوں پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدواروں کو برتری حاصل ہے، جبکہ بعض حلقوں میں سخت مقابلہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔اب تک کے نتائج کے مطابق بی این پی کو 68،جماعت اسلامی کو 21،این سی پی کو دو نشستیں ملی ہیں
طارق رحمان ڈھاکا-17 اور بوگرا-6 سے کامیاب
رات 10 بج کر 20 منٹ تک موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے ڈھاکا-17 اور بوگرا-6 کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ بات بی این پی میڈیا سیل کے رکن شائرل کبیر خان نے بتائی۔اس سے قبل طارق رحمان نے جمعرات کی صبح 9:30 بجے گلشن ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان اور صاحبزادی زائمہ رحمان بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی جماعت ملک میں مستحکم حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔
میرزا فخرالاسلام عالمگیر کو ٹھاکرگاؤں-1 میں برتری
رات 9:25 بجے تک کے ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی کے سیکریٹری جنرل میرزا فخرالاسلام عالمگیر ٹھاکرگاؤں-1 میں نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ 35 پولنگ مراکز کے نتائج کے مطابق انہیں 39 ہزار 101 ووٹ ملے، جبکہ ان کے قریب ترین حریف جماعت اسلامی کے امیدوار کو 25 ہزار 976 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس حلقے میں مجموعی طور پر 185 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔دن کے وقت میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میرزا فخرالاسلام نے کہا کہ ملک بھر میں ووٹنگ کا ماحول توقع سے زیادہ پُرجوش اور پُرامن رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک جمہوری عمل کی جانب گامزن ہے۔
کاکس بازار-1 میں صلاح الدین احمد کو واضح برتری
کاکس بازار-1 (چکریا-پیکوا) سے بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ 177 میں سے 74 پولنگ مراکز کے نتائج کے مطابق انہوں نے ایک لاکھ 21 ہزار 119 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ مکمل نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
سنام گنج-2 میں جماعت اسلامی کے امیدوار نے شکست تسلیم کرلی
رات 9:04 بجے جماعت اسلامی کے امیدوار شیشیر منیر نے سنام گنج-2 (دیرائی-شالا) سے اپنی شکست تسلیم کرلی۔ انہوں نے فیس بک پر جاری بیان میں اپنے مدمقابل ناصر الدین چوہدری کو مبارکباد پیش کی۔
براہمن باریا-2 میں رُمین فرحانہ کو برتری
براہمن باریا-2 میں آزاد امیدوار رُمین فرحانہ 12 پولنگ مراکز کے نتائج کے مطابق 9 ہزار 648 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ بی این پی اتحاد کے امیدوار مولانا جنید الحبیب کو 6 ہزار 745 ووٹ ملے ہیں۔
جھینائیدہ-1 میں اسدالزمان کامیاب
جھینائیدہ-1 (شائل کوپا) سے بی این پی کے امیدوار اور سابق اٹارنی جنرل محمد اسدالزمان ابتدائی نتائج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں۔ انہوں نے انتخاب لڑنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ اس حلقے میں ووٹر ٹرن آؤٹ زیادہ رپورٹ ہوا۔
کومیلا-4 میں تنازع اور بائیکاٹ
کومیلا-4 (دیبدوار) میں 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار حسنت عبداللہ کو بعض مراکز پر برتری حاصل ہوئی، تاہم ان کے مدمقابل ایم ڈی اے جاسم الدین نے بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو کئی مقامات پر داخلے سے روکا گیا۔
پوسٹل بیلٹس کی بڑی تعداد موصول
الیکشن کمیشن کے مطابق 13ویں انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل بیلٹس موصول ہوئے، جن میں تقریباً پانچ لاکھ بیرون ملک مقیم ووٹرز کے تھے۔ حکام کے مطابق بیرون ملک سے بڑی تعداد میں بیلٹس واپس موصول ہو چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن اور مبصرین کا ردعمل
الیکشن کمیشن کے مطابق 4:30 بجے ووٹنگ کے اختتام تک 299 حلقوں میں پولنگ پُرامن طور پر مکمل ہوئی، جبکہ شیرپور-3 میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث انتخاب ملتوی کیا گیا۔ دوپہر 2 بجے تک 47.91 فیصد ووٹ کاسٹ ہونے کی اطلاع دی گئی۔یورپی یونین کے چیف مبصر ایوارس ایجابس نے ووٹرز کی مثبت شرکت کو سراہا، جبکہ انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور سابق امریکی رکن کانگریس ڈیوڈ ڈرائر نے انتخابی عمل کو "آزاد، منصفانہ اور پُرجوش” قرار دیا۔نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ عوام نے آئینی حق استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کے تعین میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
پولنگ کے اختتام کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور پولنگ اسٹیشنز کے اطراف سے غیر متعلقہ افراد کو ہٹا دیا گیا۔ بعض مقامات پر بے ضابطگیوں کے الزامات پر چار انتخابی اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا۔
ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور سرکاری نتائج آئندہ چند دنوں میں مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق بی این پی کو کئی اہم حلقوں میں برتری حاصل ہے، تاہم حتمی تصویر مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا ہے۔اب تک کے غیر سرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جبکہ 33 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔
جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 افراد کو 2 ، 2 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ سراج گنج4 اور جھالاکاٹھی 2 میں جعلی ووٹ ڈالنےکی کوشش کی گئی۔ سراج گنج میں 22 سال کے روبیل حسین نے ووٹ ڈالنے کے بعد بیرون ملک مقیم ووٹر کا ووٹ ڈالنے کی کوشش کی،انتخابی حکام نے روبیل حسین کو حراست میں لے کر سمری کورٹ میں پیش کیا تھا،اس کے علاوہ جھالاکاٹھی میں خاتون کو جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 سال قید کی سزا ہوئی، 34 سال کی خاتون کو موبائل کورٹ نے سزا سنائی جبکہ 50 ہزار ٹکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
