Baaghi TV

بنوں: سی ٹی ڈی کی کاروائی اسسٹنٹ کمشنر کے قتل میں ملوث دہشتگرد گرفتار

ctd police

محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا نے بنوں ریجن میں ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم دہشتگرد تنظیم کے انتہائی مطلوب کمانڈر اسامہ عرف دانیال عرف باغی کو پیپل بازار بنوں سے گرفتار کر لیا۔ گرفتار دہشتگرد متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم کا تعلق ضلع بنوں سے ہے اور وہ ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی جی کے اشتراک سے قائم تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) میں شامل ہوا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مجموعی طور پر 9 بڑی دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔اعترافی بیان کے مطابق ملزم دسمبر 2025 میں بنوں کے علاقے مل اڈہ میں اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ شاہ ولی خان پر ہونے والے مسلح حملے میں ملوث رہا، جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر اپنے دو محافظوں سمیت شہید ہوئے جبکہ سرکاری گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ملزم نے نومبر 2025 میں نالی پل کے قریب سابق ایس ایچ او عابد وزیر کے اغوا اور شہادت، اکتوبر 2025 میں لکی مروت امن کمیٹی کے تین رہنماؤں عطاء اللہ، فرمان اللہ اور ولی اللہ کے اغوا و قتل میں بھی براہِ راست ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اس کے علاوہ باران ڈیم کے قریب ایف سی کے دو اہلکاروں کے اغوا، جون 2024 میں پولیو افسر ملک اسحاق اور ان کے گن مین کے قتل، اور پیپل بازار میں پولیو ڈیوٹی سے واپسی پر دو پولیس اہلکاروں کے اغوا اور ان سے اسلحہ چھیننے کی وارداتیں بھی ملزم کے اعترافات میں شامل ہیں۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم حساس اداروں کی ریکی، سیکیورٹی فورسز کی تصاویر فراہم کرنے، جاسوسی کے شبے میں شہریوں کے اغوا اور غیر قانونی ناکہ بندیاں قائم کر کے عوام کو ہراساں کرنے میں بھی سرگرم رہا ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں بنوں میں سیکورٹی فورسز کا گزشتہ روز ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 5 دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار،پولیس کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز تھانہ احمدزئی اور چوکی کاشو پل پر ہونے والے سنائپر حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے عمل میں لائی گئی۔ آپریشن کے دوران پولیس ٹیموں نے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا، جبکہ مشتبہ افراد کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد پانچ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

More posts