Baaghi TV

بنوں میں صحافی کے گھر پر فائرنگ، چند روز قبل دھمکیاں ملنے کا انکشاف

بنوں: ضلع بنوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، جہاں سابق صدر بنوں پریس کلب اور اے آر وائی نیوز کے نمائندے احسان خٹک کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے
۔
تفصیلات کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے رات کی تاریکی میں احسان خٹک کے گھر کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گھر کی دیواروں اور دروازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ذرائع کے مطابق احسان خٹک اور ایک اور مقامی صحافی کو چند روز قبل ایک ٹھیکیدار کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ صحافیوں نے مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال اور غیر معیاری سولر لائٹس و کھمبوں کی تنصیب سے متعلق خبر نشر کی تھی، جس کے بعد انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

احسان خٹک کی جانب سے تھانہ صدر پولیس کو پہلے بھی نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کے خلاف درخواست دی جا چکی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں افغانستان کے فون نمبرز سے بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور ناقص کام کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادی صحافت پر حملہ ہے، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

More posts