خیبر: ضلع خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی اور تصادم کے نتیجے میں متعدد کارکن زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کر کے شرکاء کو منتشر کردیا۔
پولیس کے مطابق باڑہ بازار میں اے این پی کے ضلعی صدر کی زیرِ صدارت ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں پارٹی کارکنان اور مقامی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ابتدائی طور پر جلسہ پُرامن انداز میں جاری تھا، تاہم صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب بعض مخالف افراد وہاں پہنچے اور نعرے بازی شروع کردی۔عینی شاہدین کے مطابق نعرے بازی کے بعد دونوں جانب سے تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور تشدد میں بدل گئی۔ اس دوران لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال بھی کیا گیا جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق موقع پر موجود مسلح افراد کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فائرنگ اور حملے کا الزام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں پر براہِ راست فائرنگ نہایت تشویشناک اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی کارکنوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق نہیں دیا جائے گا تو یہ جمہوری عمل کے لیے خطرناک ہوگا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ باڑہ بازار میں پیش آنے والا واقعہ سیاسی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پُرامن احتجاج کو بھی برداشت نہ کیا جائے اور اختلافِ رائے کے جواب میں تشدد کو اختیار کیا جائے تو اس سے معاشرے میں انتشار کو فروغ ملتا ہے۔تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ایسے واقعات ماضی میں پیش آنے والے 9 مئی اور 26 نومبر جیسے سانحات کے حوالے سے سرکاری بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو کسی بھی حد تک جانے کا خدشہ حقیقی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ ماہرین نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں کیونکہ سیاست میں برداشت کے خاتمے کا نقصان صرف ایک فریق نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
