Baaghi TV

باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے موجودہ وزیر اعلیٰ (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیراہ میں دہشتگردی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہونے والی نشست میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں تیراہ سے چلےجانے کا کہا جائے گا۔ جرگہ قرآن لے کر خوارج کے پاس گیا لیکن خوارج نے قبائلی روایات کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور تیراہ سے نکلنےپر راضی نہ ہوئے۔ 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو پہلا خط لکھا جس میں متوقع نقل مکانی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اس کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا کہا گیا۔ اسی دوران، 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے تیراہ کے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے اصولی طور پر 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ تین ماہ کے وقفے کے بعد (11 دسمبر 2025 کو)، تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لہٰذا وہ علاقہ خالی کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔

17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جرگے کی اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔ 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ 31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونی تھی، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، بعد ازاں اس مدت میں 26 جنوری 2026 تک توسیع کر دی گئی۔

جرگہ کے اصل حقائق یہ ہیں کہ، تیراہ میں آفریدی قبیلے کے 8 قبیلے موجود ہیں جن میں سے 6 قبیلوں میں سے ہر قبیلے نے 4 نمائدے منتخب کیے تھے – لہذا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا جو تیراہ کے لوگوں کے اصل نمائیدگان تھے ، ہفتے کے دن باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ منعقد ہونا تھا، اسکو CM KP ، مینا خان جیسے لوگوں نے ڈسکریڈٹ کرنے کے لئے اتوار کے روز جمرود میں سیاسی جلسہ بھی رکھ لیا – حکومت نے 4 ارب روپے تیراہ کے لوگوں میں بانٹنے کی بجائے اور جرگے کو نظر انداز کر کے،اپنے نظر شفقت political workers میں بانٹے تاکہ political mileage حاصل کیا جا سکے – سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور ستمبر سے لے کر جنوری تک یہ تاخیر ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ کس طرح تیراہ کے لوگوں کو سیاسی ڈھال بنایا گیا- 90 ہزار لوگوں کے لئے صرف 2 ریجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے تاکہ انسانی المیہ بنایا جائے – لہذا ان سب وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی اور جرگے کے عمائدین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کی جانب سے تیراہ جرگہ کے ممبران کو "ٹاؤٹ” قرار دینا شرمناک ہے۔ یہ جرگہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت ان معتبر مقامی افراد کو خریدنے میں ناکام رہی، تو اب انہیں بدنام کرنے پر اتر آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اقبال آفریدی، مینا خان، سہیل آفریدی کے بھائی اور غنی آفریدی نے متاثرین کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے میں خورد برد کی – جرگہ پی ٹی آئی کے اِن سیاستدانوں کی جانب سے کی جانے والی جعلی رجسٹریشنز کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، کیونکہ جرگہ نہیں چاہتا کہ حق داروں کا حق مار کر سیاسی من پسند افراد کو نوازا جائے۔ اسی مزاحمت کی وجہ سے اب ان سیاستدانوں نے جرگے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی تیراہ کے عوام کے لیے مختص 4 ارب روپے کو اپنے حامیوں میں بانٹ کر ان کو 8 فروری کے جلسے میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اصل جرگہ ہفتے کو منعقد ہوگا ، اتوار کو جمرود میں ہونے والا جلسہ سیاسی چال ہے ، تاکہ لوگوں کو ورغلایا جائے اور آٹھ فروری کے جلسے میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے ۔

تیراہ کے لیے مختص 4 ارب روپے میں مبینہ خردبرد اور ناانصافی کے خلاف باڑہ سیاسی اتحاد نے 31 جنوری 2026 کو ایک خالص عوامی قبائلی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس جرگے میں قبائلی مشران، ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے شریک ہوں گے تاکہ فنڈز کے شفاف استعمال، ذمہ داروں کے تعین اور تیراہ کے مسائل کا سیاست سے بالاتر حل یقینی بنایا جا سکے۔

More posts