تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پنجاب اسمبلی سلمان شاہد نے اپنی مبینہ نازیبا ویڈیو کے سوشل میڈیا پر پھیلاؤ کے معاملے پر کارروائی کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کر لیا ہے۔
رکن اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جعلی ویڈیو تیار کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔درخواست میں سلمان شاہد نے دو افراد، مدثر اور شیخ عبداللہ، کو نامزد کیا ہے جبکہ 25 دیگر افراد کو نامعلوم ملزمان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ ویڈیوز مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور فیس بک گروپس کے ذریعے پھیلائی گئیں جن میں ’’انصاف گروپ آف پاکستان بورے والا‘‘ بھی شامل ہے۔سلمان شاہد کا کہنا ہے کہ وائرل کی جانے والی ویڈیو حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد ہے جس کا مقصد ان کی سیاسی اور ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
این سی سی آئی اے نے درخواست موصول ہونے کے بعد کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نامزد دونوں ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ادارے کی جانب سے مدثر اور شیخ عبداللہ کو 8 جون کو این سی سی آئی اے لاہور کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا مؤقف اور جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق شیخ عبداللہ کا تعلق بورے والا سے ہے .
