لاہور میں بسنت کا تہوار بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جہاں شہر بھر میں جشن کا سماں ہے، آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوا ہے اور فضا میں بوکاٹا کے نعرے گونج رہے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے بسنت منانے کے لیے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں کمرے نایاب ہو گئے ہیں، جبکہ شہر بھر میں روایتی کھانوں کی مانگ بھی عروج پر ہے۔
بسنت نے نہ صرف اہلِ لاہور کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دی ہیں بلکہ مقامی کاروبار کو بھی نمایاں فروغ دیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے لاہور کے بیشتر ہوٹل مکمل طور پر بک ہیں۔
لاہور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر گلریز خٹک کے مطابق بسنت فیسٹیول اب بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور تہوار کے دوران کیے گئے انتظامات کو سراہا جا رہا ہے، جن کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران مجموعی معاشی سرگرمی 20 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے، جس میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مقامی تجارت کا بڑا حصہ شامل ہے۔
پتنگوں، ڈور اور دیگر متعلقہ سامان کی فروخت سے چھوٹے تاجروں، فروشوں، ڈرائیورز اور سپلائرز کو براہِ راست فائدہ پہنچا ہے، جبکہ بسنت سیزن کے لیے ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد نے رجسٹریشن کروائی۔
ماہرین کے مطابق اس تہوار کے باعث کاغذ، بانس، دھاگہ، پیکیجنگ، خوراک اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف سپلائی چینز میں اربوں روپے کی کاروباری سرگرمیاں پیدا ہو رہی ہیں اور ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں۔
بسنت سے معاشی سرگرمیوں میں بڑا اضافہ
