لاہور میں کئی برس بعد بسنت کے تہوار کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں سے آسمان سجنے کو تیار ہے۔ شہر کی فضا میں بسنت کی روایتی رونق لوٹ آئی ہے، جس کا واضح عکس فصیل بند شہر، بالخصوص موچی گیٹ اور گرد و نواح کی مارکیٹوں میں نظر آ رہا ہے جہاں پتنگیں اور ڈور خریدنے والوں کا غیر معمولی رش ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت کی تیاریوں کا جوش عید جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ خواتین بسنت کے لیے ہم رنگ لباس اور زیورات کی خریداری میں مصروف ہیں جبکہ گھروں کی چھتوں پر بیٹھنے کے انتظامات، کھانے پینے کا سامان اور موسیقی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بسنت کی خوشیوں کو کچھ حد تک متاثر کر دیا ہے۔
دکانداروں کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دو عدد ڈور کے پنے کی قیمت 12 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ بڑی چرخیاں سائز کے حساب سے 400 سے 600 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ محدود وقت اور تھوک نرخوں میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا مجبوری بن چکا ہے۔
پچیس سال بعد بسنت کی واپسی نے شہرِ زندہ دلان میں تہلکہ مچا دیا۔ لاہور کے بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں، ہر طرف پیلا رنگ، پتنگیں اور چھتوں کی سجاوٹ اپنے عروج پر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت ہمیں رنگ، اُمید اور میل جول کا احساس دلاتی ہے۔
قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں بھی پتنگ سازی کی اجازت دے دی ہے تاکہ سپلائی میں اضافہ ہو سکے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں پر سخت کنٹرول یقینی بنایا جائے تاکہ ہر طبقے کے لوگ بسنت کی خوشیوں میں برابر شریک ہو سکیں۔
بسنت کے رنگ، پتنگ بازاروں میں رش اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
