Baaghi TV

بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کےقریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کےلیے بجلی کےکھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا،ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے، لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔

لاہورمیں بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جہاں عورتیں، بچے اور بزرگ سب ہی رنگا رنگ پتنگوں کے ساتھ خوشیوں میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔ کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں ایک بار پھر بسنت کی بہار لوٹ آئی ہے اور شہر کی گلیاں، کوچے اور سڑکیں پتنگوں سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پتنگ بازی میں مصروف ہے، جبکہ بازاروں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری کا رش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں ماضی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بسنت کے شوقین افراد کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

طویل عرصے بعد بسنت منانے کے موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت فضا خوشگوار ہے اور کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا، ہر شخص اپنی مستی اور خوشی میں مگن ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں بسنت کے باعث آج اور کل عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو تہوار منانے کا بھرپور موقع میسر آیا ہے ،تاہم خوشیوں کے اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔بسنت کی بحالی نے جہاں شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو اور عوام بلا خوف و خطر اس تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔

More posts