بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ سرکاری ڈاکٹرنے جو رپورٹ بنائی میری بہن نے کہا یہ ٹھیک نہیں، بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں عمران کو الشفاء منتقل کریں گے۔
عمران خان کی بہنوں نے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی بھابھی اُن سے ملاقات کرکے آئی ہیں،عمران خان نے بتایا کہ انہیں نظر نہیں آیا، دوسرا عمران خان نے کہا کہ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی دی جائے، اس حوالہ سے عدالت میں درخواست دی جائے،علیمہ خان کے مطابق ہم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو الشفاء لیکرجائیں،ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، پہلے ایازصادق نے کہا کہ 2 ڈاکٹرز کو جیل بھیج دیتے ہیں، پھر بتایا گیا کہ محسن نقوی سے کانفرنس کال ہورہی ہے، بتایا گیا کہ محسن نقوی گارنٹی دے رہے ہیں کہ الشفاء منتقل کریں گے،پی ٹی آئی کی وہ لیڈرشپ جن کو محسن نقوی نے گارنٹی دی تھی وہ لوگ ٹی وی پر آ کر بتائیں کہ محسن نقوی نے ان کو کیا کہا تھا،ہمیں تصدیق کسی سے نہیں ملتی، ٹی وی سے ہی سب پتہ چلتا ہے،محسن نقوی نے جو پریس کانفرنس کی کہ عمران خان کے علاج میں تین دن کی تاخیر ہوئی، علاج تو نہیں ہو رہا تھا وہ تو معائنہ کیا گیا،سرکاری ڈاکٹر نے جو رپورٹ بنائی میری بہن نے کہا یہ رپورٹ ہی ٹھیک نہیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں کیوں رکھا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی کا مکمل معائنہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں کیا جائے، جب تک عمران خان اسپتال نہیں پہنچتے، ذاتی معالج ہمیں نہیں بتائیں گے ہم کسی کی بات پریقین نہیں کریں گے،عمران خان کو اب جیل نہیں ہسپتال میں ہونا چاہئے،عمران خان کی یہ حالت کیوں ہوئی ، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ شفا انٹرنیشنل میں عمران کو لے کر جائین وہاں علاج ہو، سپیشلسٹ کی اور عمران خان کی ڈاکٹر کی نگرانی ہو،یہ اتنا جھوٹ بول چکے ہیں کہ کوئی حد نہیں، پمز سرکاری ہسپتال ہے ہم کیسے اعتبار کریں،
عظمیٰ خان نے کہاکہ جن پر ہمارا اعتبار ہے جب تک وہ نہیں ہوں گے ہمیں تسلی نہیں ہوگی، اگرکوئی بیماری ہے تو اس کو سامنے لیکر آئیں،چھپا کیوں رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ میں بیماری کا نام نہیں ہے، علاج تب تک شروع نہیں ہوسکتا جب تک اس کی وجہ کا پتہ نہ ہو۔
