بھارت میں چار اہم ریاستوں آسام، کیرالہ، تامل ناڈو، مغربی بنگال اور ایک یونین ٹیریٹری پڈوچیری میں اسمبلیوں کی مدت 2 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں نئے انتخابات مارچ سے مئی کے درمیان مختلف مراحل میں کرائے جائیں گے۔ بھارت میں مودی سرکار نے ان اتخابات کو جیتنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئی دہلی سے فون پرباغی ٹی وی سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مودی نے وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چند دیگر سرکردہ لیڈروں کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی ہے جس میں انخابات کے حوالے سے اہم حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 60 نشستوں سمیت این ڈی اے الائنس کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) CPI(M) کی قیادت میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت ہے جبکہ این ڈی اے کے پاس کوئی سیٹ نہیں۔ تامل ناڈو میں دراویڑ منیتر کڑگم (DMK) کی حکومت ہے جس میں این ڈی اے کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ اس ریاست میں این ڈی اے کے پاس 77 سیٹیں ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی کی ہیں۔ پڈوچیری میں آل انڈیا این آر کانگریس کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے جن میں سے بی جے پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے انتخابات نہ صرف بھارت کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ مختلف ریاستی حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ اجلاس میں تہیہ کیا گیا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی بھر پور کوشش ہو گی کہ انتخابات کے بعد ان تمام ریاستوں میں بھی ان کی مکمل حکومتیں قائم ہوں خواہ اس کیلئے کوئی بھی حربہ کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ اجلاس میں انتخابات کے دوران پاکستان کے خلاف مختلف بیانیے استعمال کر کے عوامی ہمدردیاں حاصل کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز سامنے رکھے گئے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ انتخابی مہم کے دوران سب سے نمایاں بیانیہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کا ہو گا جس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی موجودہ کشیدہ حالات کو پاکستان سے منسوب کر کے سخت موقف اپنانے کا تاثر دینے کا منصوبہ ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے حکومت خود کو قومی سلامتی کی ضامن کے طور پر پیش کر سکتی ہے اور مخالف سیاسی جماعتوں پر کمزوری یا نرمی کے الزامات عائد کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بیانیہ نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک یا محدود فوجی کارروائی کی یاد دہانی ہو سکتا ہے جس سے ماضی کے واقعات کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا جائے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ مودی سرکار ایسے حوالہ جات جلسوں اور میڈیا بیانات میں عوامی جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اجاگر کر کے دو محاذی خطرے کا بیانیہ بھی پیش کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جس میں یہ مؤقف اپنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سرگرم ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔ اس بیانیے کا مقصد عوام میں قومی اتحاد اور حکومت کی دفاعی پالیسیوں کے لیے حمایت پیدا کرنا ہے۔ ایک اور تجویز پر غور کیا گیا کہ انتخابی ماحول میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا دکھانے کا بیانیہ بھی کارآمد ہو سکتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ بھارت نے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف مؤقف مضبوط اپنایا اور نئی دہلی خطے میں امن و استحکام کا ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔
اس بیانیے سے حکومت اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو انتخابی فائدے میں بدل سکتی ہے۔ اندرونی سلامتی اور سخت قوانین کا بیانیہ بھی پاکستان سے جوڑ کر پیش کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی جس کے مطابق یہ تاثر دیا جائے گا کہ پاکستان سے جڑے خطرات کے باعث ملک بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت قومی سلامتی کو داخلی نظم و نسق اور انتخابی وعدوں سے جوڑنے کی کوشش سے عوامی ہمدردیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میٹنگ میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران ایل او سی پر محدود اور کنٹرولڈ کشیدگی کی فضا پیدا کی جائے خاص طور پر دہشت گردی اور در اندازی کے الزامات اور پاکستان مخالف بیانیے کے استعمال سے سرحدی کشیدگی یا سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم مکمل جنگ کے امکانات کم رہیں۔ ان حالات میں عالمی دباؤ اور جوہری توازن ایسے عوامل ہیں جو دونوں ممالک کو محتاط رہنے پر مجبور کریں گے۔ جس کی آڑ میں سیاسی فائدہ حکومتی جماعت کو حاصل ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ فوری ردعمل دے سکتی ہے تاکہ صورت حال قابو سے باہر نہ جائے۔
