بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان پر “منظم طور پر ظلم” کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد خود بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر خاموشی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سخت بیانات دینے کے باوجود اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں عیسائی برادری کے خلاف حملوں میں گزشتہ دہائی کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں جہاں ایسے واقعات کی تعداد تقریباً 127 سے 139 کے درمیان تھی، وہیں 2024 میں یہ بڑھ کر 834 تک پہنچ گئی۔ ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، تشدد، اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کے تحت مقدمات شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق کئی کیسز میں مقامی انتہا پسند گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
بھارت میں مسلم کمیونٹی بھی مسلسل دباؤ اور تشدد کا شکار رہی ہے۔ مختلف رپورٹس میں “گاؤ رکھشا” کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں تشدد ، مذہبی بنیادوں پر قتل، اور نفرت انگیز تقاریر کے سینکڑوں واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 1100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں درجنوں اموات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات میں بڑھتی ہوئی نفرت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
بھارت میں دلت (شیڈولڈ کاسٹس) کے خلاف جرائم بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں دلتوں کے خلاف 57 ہزار سے زائد جرائم درج کیے گئے، جن میں قتل، زیادتی، تشدد اور زمینوں پر قبضے جیسے سنگین واقعات شامل ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق اوسطاً ہر 18 منٹ میں ایک جرم رپورٹ ہوتا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت ایک طرف عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے بیانات دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ ناقدین کے مطابق یہ “دوہرا معیار” نہ صرف داخلی سطح پر عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے، نفرت انگیز جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
