Baaghi TV

بھارت میں مسلم مخالف جرائم رپورٹ کرنے والے صحافی نشانے پر

دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں صحافتی آزادی تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے اور خاص طور پر مسلم مخالف جرائم کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے صحافیوں کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور بعض اوقات قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے باعث نہ صرف آزاد صحافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اقلیتوں سے متعلق حقائق بھی عوام تک صحیح طور پر نہیں پہنچ پا رہے۔

دوسری جانب امریکی غیر سرکاری تنظیم جینو سائیڈ واچ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی میڈیا حکمران جماعت بی جے پی کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق میڈیا میں حکومتی بیانیے کو ترجیح دی جاتی ہے اور مسلم مخالف پالیسیوں اور بیانات کو بار بار نشر کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا کا غیر جانبدار نہ رہنا جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور اس سے معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ ملتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی کانگریس کے اراکین اور امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور حکومت سے اس حوالے سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہ ملا تو نہ صرف جمہوریت کمزور ہوگی بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی چھپایا جا سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

More posts