بھارت میں مودی حکومت حقائق کے برعکس مبالغہ آمیز بیانیے اورمفروضوں پر مبنی اعداد و شمار پر انحصار کرنے لگی
معاشی، انتخابی اور جنگ جیسے حساس شعبوں میں شفافیت کمزور ہو چکی ہے اور عوام کو جھوٹے بیانیے سنائے جا رہے ہیں،مودی کے "شائنگ انڈیا” کا بیانیہ مبالغہ آمیز دعوؤں ، دھوکہ اور اقلیتوں کیخلاف انتہا پسند پالیسیوں پر مبنی رہ گیا ہے،نیویارک ریویو آف بکس میں شائع کرسٹوفر ڈی بیلیگ کا مضمون Hype and Fraud in India بھارت کے موجودہ حکومتی ماڈل پر تنقیدی سوال اٹھاتا ہے،مضمون میں جنگ کا پہلو سب سے چونکا دینے والا ہے، جہاں آپریشن سندور میں بھارت کی “فتح” کو ڈی بیلیگ نے محض جھوٹ قرار دیا،نیویارک ریویو کے مطابق گذشتہ سال مئی میں پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران متعدد بھارتی طیارے گرائے گئے، ماہرین اس جنگ کو پاکستان کی حالیہ دہائیوں کی “سب سے بڑی علامتی کامیابی” قرار دیتے ہیں،بھارتی عوام کو ایک اسٹیج شدہ شو دکھا کر “کامیابی” بیچی گئی یوں جنگ بھی ایک تھیٹر بن گئی،بھارتی ریاست نے ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار اور جمہوریت جیسے بنیادی معاملات میں حقائق کے بجائے اعداد و شمار اور بیانیوں کو مرکزی حیثیت دے دی ہے،بھارت میں معاشی پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود بے روزگاری، عدم مساوات اور غیر رسمی معیشت جیسے مسائل جوں کے توں موجود ہیں،بھارت میں انتخابی عمل میں شفافیت اور احتساب کے ذرائع اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے،
کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مطابق 2014 کے بعدبھارتی حکومت نے غربت اور بے روزگاری کے پیمانے بدل کر آزاد ڈیٹا اور حقائق جانچنے والے اداروں کو کمزور کر دیا،اپریل 2025 میں عالمی بینک سے منسوب جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ؛ بھارت میں انتہائی غربت 12-2011کے 16.2 فیصد سے کم ہو کر 23-2022 میں 2.3 فیصد رہ گئی ہے،نیویارک ریویو کے مطابق پروفیسر گورودت سمیت متعدد آزاد محققین نے اس طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور متبادل مطالعات میں کہیں زیادہ غربت سامنے آئی،جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری کا خاتمہ اور شہریت کے قوانین میں مذہبی جھکاؤ مسلمانوں کو قومی دائرے سے باہر دھکیلنے کا ایک منصوبہ ہے،بھارت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروِند سبرامنیم کے مطابق ڈیٹا چھپانے کی وجہ سے معیشت کی اصل تصویر غائب ہو گئی ہے، دی اکانومسٹ بھی بھارت کو اب “جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست” قرار دیتا ہے،
ماہرین کے مطابق کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے اس مضمون کا حاصل یہ ہے کہ؛جو ریاست غربت، روزگار، انتخابات اور اقلیتوں پر جھوٹ بول سکتی ہے، وہ جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولے گی، یہ مضمون کسی ایک پالیسی نہیں بلکہ’’ پورے بھارتی نظام‘‘ پر سوال اٹھا رہا ہے،
