بھارت کے شہر ممبئی میں 26 سالہ نویِنا وانامالا اپنی زندگی کے سب سے اہم دن کی تیاری میں مصروف ہیں، مگر خوشیوں کے اس موقع پر پریشانیوں کا سایہ بھی نمایاں ہے۔ میک اپ آرٹسٹ جب ان کے چہرے پر باریک سفید نقطے بنا رہی ہے، اسی دوران ان کا فون مسلسل بج رہا ہے . کہیں پھول غائب ہیں، کہیں انتظامات ادھورے ہیں۔
یہ ذمہ داریاں عام طور پر دلہن کے والد سنبھالتے ہیں، مگر نویِنا کے والد کا چھ ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد وہ خود ہی اپنی شادی کے تمام فیصلے لینے پر مجبور ہیں ، وہ بھی ایسی شادی جس کے اخراجات ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں۔نویِنا، جو ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں، ماہانہ تقریباً 145 ڈالر کماتی ہیں۔ ان کی شادی کا ابتدائی بجٹ 3,200 ڈالر تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوگنا ہو گیا۔ مجبوراً انہوں نے بینک سے قرض لیا، جبکہ ان کے منگیتر، سائی کرن دوسا، پہلے سے موجود ہاؤس لون کے باوجود مزید قرض لینے پر مجبور ہو گئے۔نویِنا کہتی ہیں "اتنا قرض لینا مناسب نہیں تھا، مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہمیں یہ شادی کرنی ہی تھی۔”
بھارت میں شادیاں ایک وسیع سماجی روایت ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں شادیوں کی صنعت تقریباً 130 ارب ڈالر کی ہے۔ یہاں شادیوں میں کئی دنوں تک تقریبات جاری رہتی ہیں اور اکثر دلہن کے خاندان پر اخراجات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سماجی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دلہن کے خاندان کو شاندار تقریب منعقد کرنی ہوتی ہے،سونے کے زیورات، نقد رقم اور گھریلو سامان دینا عام بات ہے،جہیز قانونی طور پر ممنوع ہونے کے باوجود اب بھی رائج ہے،یہ مسئلہ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں۔ ایک طرف غریب خاندان بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، تو دوسری جانب امیر طبقے میں شاہانہ شادیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں کاویری مہتا کی شادی اس کی مثال ہے، جہاں سینکڑوں مہمان شریک ہوئے،مہنگی سجاوٹ، بین الاقوامی مہمان اور شاندار کھانے کا اہتمام کیا گیا،تقریب کے لیے تقریباً 150 افراد پر مشتمل ٹیم نے کام کیا،ویڈنگ پلانر وکرم جیت شرما کے مطابق "بعض کلائنٹس شادی پر 5 لاکھ سے 30 لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔”کاویری مہتا کا کہنا ہے کہ وہ سادہ شادی چاہتی تھیں، مگر سماجی روایات کے باعث مہمانوں کی فہرست کم کرنا ممکن نہیں تھا۔”لوگوں کو بلانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنی شادی میں بلایا ہوتا ہے۔”یہی وہ سماجی دباؤ ہے جو خاندانوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔بھارت کے شمالی علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شادی ایک بڑا مالی بحران بن چکی ہے۔ 19 سالہ انامیکا اپادھیائے کی مثال سامنے آتی ہے، جو ایک اجتماعی شادی میں شریک ہوئیں کیونکہ ان کی والدہ اکیلے شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔
اگرچہ بھارت میں جہیز لینا دینا غیر قانونی ہے، مگر اس کے باوجود یہ روایت مضبوطی سے قائم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 6,000 سے زائد خواتین جہیز سے متعلق تنازعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ماہر قانون کنال مدن کہتے ہیں "یہ مطالبات معمولی نہیں ہوتے، بلکہ بھاری رقم، جائیداد اور سونا مانگا جاتا ہے، جو اکثر خواتین فراہم نہیں کر سکتیں۔”31 سالہ پریانکا ڈابلا کے مطابق، ان کے والد نے شادی پر 32,000 ڈالر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مزید مطالبات جاری رہے۔ انہوں نے گھریلو تشدد کا بھی الزام عائد کیا۔
ممبئی میں، نویِنا کی شادی میں 500 سے زائد مہمان شریک ہوئے۔ تقریب شاندار رہی، مگر اس کے بعد کا مالی بوجھ انہیں پریشان کر رہا ہے۔وہ کہتی ہیں "شادی ویسی ہی تھی جیسی میں نے خواب میں دیکھی تھی، مگر قرض ختم ہونے تک میں پریشان رہوں گی۔”
بھارت میں شادی ایک خوشی کا موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مالی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ سماجی دباؤ، مہنگی روایات اور جہیز جیسی غیر قانونی رسمیں لاکھوں خاندانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس رجحان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شادی جیسی خوشی کی تقریب مزید خاندانوں کے لیے مالی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے
