Baaghi TV

بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج

بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج بن گئی

عالمی اداروں میں بھارتی شہریوں کی موجودگی اور رسائی سیکیورٹی خطرے کی شکل اختیار کر چکی ہے،بھارت حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے لئے عالمی اداروں میں موجود اپنے شہریوں سے فائدہ اٹھانے لگا،بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ؛امریکی سائبر دفاعی ادارے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزت "اے آئی ایپلیکیشن” پر اپلوڈ کر دیں،اپلوڈ کی گئیں دستاویزات “ For Official Use Only ”کے زمرے میں آتی تھیں، اس حساس نوعیت کے واقعہ کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی میں شدید تشویش ہے اور تحقیقات جاری ہیں، مدھو گوتمکلا ٹرمپ انتظامیہ کے سائبر سیکیورٹی ادارے CISA کا عبوری سربراہ ہے جو بھارتی نژاد اور ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھتا ہے ،

بیرون ملک بھارتی شہریوں کا حساس ڈیٹا لیک کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،ماضی میں بھی بھارتی نژاد افراد سے منسلک بعض سیکیورٹی اور جاسوسی سے متعلق معاملات عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکے ہیں، اکتوبر 2025 میں بھی معروف بھارتی نژاد امریکی سٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ایشلی جے ٹیلس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئیں تھیں، امریکی سیکیورٹی اداروں نے اسے ایک سنگین خطرہ قرار دیا تھا ، 2023 میں قطر میں جاسوسی کے الزامات میں بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو بھی گرفتار کیا گیا تھا

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ واقعات مغربی اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی حساس معلومات تک رسائی سے متعلق سوالات کو جنم دیتے ہیں،طویل عرصہ سے یہ پیٹرن ابھر کر سامنے آیا ہے جس میں حساس معلومات ، دفاعی منصوبوں اور سائبر نظام تک رسائی میں بھارتی نژاد شہری ملوث پائے گئے ہیں، بھارت ایک منظم حکمت عملی کے ذریعے حساس معلومات کی جاسوسی کے لئے بیرون ممالک کلیدی آسامیوں پر تعینات اپنے شہریوں کو استعمال کر رہا ہے، امریکہ سمیت مغربی اور خلیجی ممالک کو حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ،

More posts