Baaghi TV

بھارت کا کروڑ پتی بھکاری،بھیک مانگ کر تاجروں کو سود پر قرض دینے لگا

اندور کے مصروف اور تاریخی بازار سرافہ میں روزانہ ایک ایسا منظر دکھائی دیتا تھا جو لوگوں کے دلوں میں ہمدردی جگا دیتا تھا۔ لوہے کی بنی ایک چھوٹی سی گاڑی، جس میں بال بیئرنگ کے پہیے لگے تھے، اس پر ایک جسمانی معذور شخص بیٹھا ہوتا، کندھوں پر بیگ، ہاتھ جوتوں کے اندر ڈالے ہوئے، اور خاموشی سے لوگوں کے درمیان موجود، وہ کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، بس بیٹھا رہتا تھا۔ لوگ خود ہی اس کی جھولی میں سکے یا نوٹ ڈال دیتے تھے۔یہ شخص منگی لال تھا ، جو اب سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق ایک غریب نہیں بلکہ کروڑ پتی نکلا۔

یہ حیران کن انکشاف خواتین و اطفال ترقیاتی محکمہ کی جانب سے اندور کو بھکاریوں سے پاک کرنے کی مہم کے دوران سامنے آیا۔ ہفتہ کی رات تقریباً 10 بجے ریسکیو ٹیم نے اطلاع ملنے پر سرافہ بازار میں کارروائی کی کہ ایک شخص جو مبینہ طور پر کوڑھ کا مریض ہے، باقاعدگی سے وہاں بھیک مانگتا ہے۔ ٹیم نے اسے ایک عام کیس سمجھا، مگر جب منگی لال سے تفتیش شروع ہوئی تو معاملہ یکسر مختلف نکلا۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ منگی لال گزشتہ چند برسوں سے سرافہ بازار میں خاموش بھیک کے فن میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔ وہ کسی سے سوال نہیں کرتا تھا، اس کی خاموشی اور معذوری ہی اس کا ذریعہ آمدن تھی۔ حکام کے مطابق وہ صرف بھیک سے روزانہ 400 سے 500 روپے کما لیتا تھا، مگر اصل کمائی رات کے اندھیرے میں شروع ہوتی تھی۔خواتین و اطفال ترقیاتی افسر اور ریسکیو آپریشن کے نَوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق منگی لال نے اعتراف کیا کہ وہ بھیک سے جمع ہونے والی رقم کو اپنی بقا پر خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ اسی رقم کو سرافہ بازار کے تاجروں کو سود پر قرض دیتا تھا۔ وہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے رقم دیتا اور روزانہ خود جا کر سود وصول کرتا تھا۔ اندازوں کے مطابق اس نے 4 سے 5 لاکھ روپے مارکیٹ میں لگائے ہوئے تھے، جس سے اسے روزانہ 1,000 سے 2,000 روپے تک کی آمدن ہو رہی تھی۔

تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ منگی لال تین گھروں کا مالک ہے، جن میں ایک تین منزلہ عمارت جبکہ دو سنگل اسٹوری مکانات شامل ہیں، جو شہر کے اچھے علاقوں میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس تین آٹو رکشے ہیں جو روزانہ کرائے پر چلتے ہیں، اور ایک ماروتی سوزوکی ڈزائر کار بھی ہے، جسے وہ خود چلانے کے بجائے کرائے پر دیتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ منگی لال نے اپنی معذوری کی بنیاد پر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ایک کمرہ، ہال اور کچن پر مشتمل سرکاری مکان بھی حاصل کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے ہی متعدد جائیدادوں کا مالک تھا۔

دنیش مشرا کے مطابق منگی لال کو فی الحال اجّین کے سیوادھام آشرم منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ان تاجروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جنہوں نے اس سے سود پر رقم لی۔ ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے ضلع کلکٹر کو پیش کر دی گئی ہے، اور آئندہ کارروائی اعلیٰ حکام کی ہدایات کے مطابق کی جائے گی۔حکام کے مطابق منگی لال 2021-22 سے بھیک مانگ رہا تھا اور اب شیلٹر ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس کیس نے اندور کی انسدادِ گداگری مہم میں ایک نیا اور چونکا دینے والا پہلو شامل کر دیا ہے۔ یہ مہم فروری 2024 میں شروع کی گئی تھی، جس کے تحت کیے گئے سروے میں شہر میں تقریباً 6,500 بھکاریوں کی نشاندہی ہوئی۔ اب تک 4,500 افراد کونسلنگ کے بعد بھیک چھوڑ چکے ہیں، 1,600 کو ریسکیو کر کے بحالی مراکز بھیجا گیا ہے جبکہ 172 بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا جا چکا ہے۔

More posts