عالمی کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائننس نے اپنے متحدہ عرب امارات میں تعینات ملازمین کو علاقائی کشیدگی کے پیش نظر عارضی طور پر دیگر ایشیائی شہروں میں منتقل ہونے کا اختیار دے دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ملازمین کو ہانگ کانگ، ٹوکیو، کوالالمپور اور بینکاک جیسے شہروں میں وقتی طور پر کام جاری رکھنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال کے دوران انہیں زیادہ لچک اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ایک ترجمان نے کوئن ڈیسک کو بتایا کہ یہ اقدام “ملازمین کی حفاظت اور سہولت” کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بائننس ایک ریموٹ فرسٹ کمپنی ہے، اس لیے اس طرح کی عارضی منتقلی سے کاروباری سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ترجمان نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کمپنی کی تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں موجود بڑی تعداد میں ملازمین نے ملک میں ہی رہنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائننس متحدہ عرب امارات کو اپنے اہم علاقائی مراکز میں سے ایک سمجھتی ہے اور وہاں طویل مدتی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔ تقریباً چھ ہفتوں کی کشیدہ صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے، جبکہ ملک کے دفاعی نظام نے سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسی دوران خطے میں متعدد بڑے کاروباری اور ٹیکنالوجی ایونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دبئی میں ہونے والی TOKEN2049 Dubai کو 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ TON Gateway کو سیکیورٹی اور سفری خدشات کے باعث منسوخ کیا گیا۔
دسمبر میں ابو ظہبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) نے کہا تھا کہ بائننس کا عالمی پلیٹ فارم اس کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرے گا، جو کمپنی کے ڈھانچے کو باضابطہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کمپنی کے مطابق تقریباً 1000 ملازمین، یعنی اس کی عالمی افرادی قوت کا 20 فیصد، متحدہ عرب امارات میں موجود ہے، جبکہ عالمی آپریشنز کا ایک بڑا حصہ ابو ظہبی سے بھی سپورٹ کیا جا رہا ہے۔
