Baaghi TV

گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر میں سفید پوشی کا جنازہ، امداد کے نام پر تذلیلِ نسواں

فرعون صفت افسران کے ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور باہر تپتی دھوپ میں سسکتی انسانیت؛ کیا مائیں بہنیں صرف ووٹ اور ٹیکس کے لیے ہیں؟
ڈیجیٹل بینکنگ کے دور میں قرونِ وسطیٰ کی اذیت گوجرخان کی خواتین کو بھکاری سمجھنے والے نظام کے خلاف عوامی غیظ و غضب

گوجرخان (قمرشہزاد) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام گوجرخان کا دفتر غریب پروری کے بجائے غریب دشمنی کی علامت بن گیا۔ قسط کے حصول کے لیے آنے والی خواتین کی عزتِ نفس کو جس بے رحمی سے پامال کیا جا رہا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ دفتر کے وسیع و عریض دفتر میں افسرانِ بالا کے لیے تو شاہانہ آسائشیں موجود ہیں، مگر جن خواتین کے نام پر یہ بجٹ ہڑپ کیا جاتا ہے، ان کے لیے سر چھپانے کو چھت ہے نہ بیٹھنے کو بینچ سفید پوش گھرانوں کی مائیں اور بہنیں چند روپوں کی خاطر صبحِ کاذب سے شام تک کھلے آسمان تلے موسم کی تلخیاں جھیل رہی ہیں۔ انتظامیہ کی یہ مجرمانہ خاموشی اور فرعونیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان اور عزت کی کوئی وقعت نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امداد افسران کی جیب سے دی جا رہی ہے؟ یا یہ عوام کے ٹیکس کا وہ پیسہ ہے جسے بانٹنے کے بہانے غریبوں کی تذلیل کا لائسنس حاصل کر لیا گیا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی کے دعوے کرنے والی حکومت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج بھی خواتین کو بینک اکاؤنٹس کے بجائے لمبی لائنوں میں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ یہ تذلیل محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک منظم جرم ہے جس کا مقصد غریب کی انا کو کچلنا ہے۔

عوامی سماجی حلقوں نے گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر کی ان کالی بھیڑوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے دفتر کو اذیت کدہ بنا رکھا ہے۔ خواتین کو فی الفور بینکوں کے ذریعے براہِ راست ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور جب تک یہ نظام نافذ نہیں ہوتا، دفتر کے اندر باعزت طریقے سے بیٹھنے اور پینے کے صاف پانی کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ اگر انسانیت کی یہ تذلیل فوری طور پر نہ رکی تو عوام ان سرکاری فرعونوں کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

More posts