کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک مندی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق 11 اپریل کو بٹ کوائن تقریباً 72 ہزار 974 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ مذاکرات کے دوران اس کی قیمت عارضی طور پر 73 ہزار ڈالر تک بھی پہنچی۔ اس سے قبل بٹ کوائن 74 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا چکا تھا، تاہم جیسے ہی مذاکرات کے بغیر معاہدے کے ختم ہونے کی خبر سامنے آئی، مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور قیمت نیچے آنا شروع ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور خدشات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی مالیاتی ماحول کو متاثر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے فروخت شروع کر دی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کے پیچھے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے سرمایہ نکالنا بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بٹ کوائن کی قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 63 ہزار ڈالر تک بھی گر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ عالمی سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی بڑی خبر کا فوری اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لے کر سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ حالات میں احتیاط ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی
