امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں رجیم چینج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی واضح حقیقت موجود نہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلنکن کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کب تک برقرار رہے گی، تاہم فی الحال کسی بڑی اندرونی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد حکومت کے خلاف کوئی عوامی بغاوت سامنے نہیں آئی بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے موجودہ نظام کا ساتھ دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے، جسے انہوں نے رجیم چینج قرار دیا۔ ٹرمپ نے ساتھ ہی ایران کے ساتھ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔
اس صورتحال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے کہ آیا ایران میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔
ٹرمپ کے ایران میں رجیم چینج کے دعوے کو بلنکن نے مسترد کر دیا
