رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیر قانونی اور نامناسب مواد کی سب سے زیادہ بلاکنگ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس کا جائزہ لیا، جن میں سے 1 لاکھ 97 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔ انسٹاگرام پر 43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے، جن میں سے 38 ہزار بلاک ہوئے، جس کا بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہا۔
ٹک ٹاک کے 1 لاکھ 74 ہزار سے زائد غیر قانونی مواد کے لنکس کی جانچ پڑتال کے دوران 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد ویڈیوز کے لنکس بلاک کیے گئے۔
اسی طرح یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ کے بعد 64 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ ایکس (ٹوئٹر) کے 1 لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس چیک کیے گئے اور 70 ہزار 800 لنکس بلاک کیے گئے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سوشل میڈیا پر غیر قانونی اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر قانونی مواد کی بلاکنگ
